ہم نے مٹی کی محبت میں بغاوت نہیں کی
لاکھ مصلوب ہوئے پر کہیں ہجرت نہیں کی
اب نہیں تو سرِ محشر ہی یہ اٹھے گا سوال
منصفِ وقت نے انصاف کی جرأت نہیں کی
محتسب میرا کسی اور کا ہے حاشیہ گر
اس نے بے وجہ تو مجھ پر یہ عنایت نہیں کی
ہم نے مٹی کی محبت میں بغاوت نہیں کی
لاکھ مصلوب ہوئے پر کہیں ہجرت نہیں کی
اب نہیں تو سرِ محشر ہی یہ اٹھے گا سوال
منصفِ وقت نے انصاف کی جرأت نہیں کی
محتسب میرا کسی اور کا ہے حاشیہ گر
اس نے بے وجہ تو مجھ پر یہ عنایت نہیں کی
مرقدِ گمنام سے سید علی گیلانی کا پیغام
سو تم یہ سوچتے ہو کہ
اگر تم میرے اس فانی بدن کو
میرے لوگوں، میرے بچوں کی
نگاہوں سے پرے جا کر
کہیں پر دفن کر دو گے
مجھے یقین کہ تُو صاحبِ ہنر ہی نہیں
مجھے یہ زعم کوئی اور چارہ گر ہی نہیں
ہر ایک سمت کھڑی ہیں مہیب دیواریں
عجیب شہر ہے جس میں کوئی شجر ہی نہیں
امیرِ شہر کا مطمع حصولِ تختِ نگیں
غریبِ شہر کی لیکن گزر بسر ہی نہیں
بے نشاں
وہ دن ابھی تک نگاہ میں ہیں
کہ ہم نے گھنٹوں قریب بیٹھے
زمانے بھر کے دُکھوں سُکھوں کے حوالے دے کر
زباں بیاں کے جوہر دکھائے تھے
اور سوچا
کہ ہم کبھی جُدا نہ ہوں گے
سلال حسن کے لیے ایک نظم
مِرے بیٹے، مِری جاں
تم میری تقلید نہ کرنا
اگر اس خطۂ ارضی پہ رہنا ہے
تو سچ کو سچ نہ کہنا
حرف کی حُرمت پہ کٹ مرنے کا سودا
سر میں نہ رکھنا
اقتباس از کشمیر 2020
سُنا ہے وادی نے
آنے والے برس کی خاطر
نئے شہيدوں کی فصل تيار کر رکھی ہے
يہ معرکہ اب جنوں کی ساری حدوں سے
آگے گزر گيا ہے
آنے والی حقیقتیں
کئی دنوں سے دل و ذہن پہ
عجیب سی کیفیت ہے طاری
کئی دنوں سے
تِری جدائی کا خوف آنکھوں میں آ بسا ہے
تِری جدائی جو آج تک تو
آنے والی حقیقتیں
کئی دنوں سے دل و ذہن پہ
عجیب سی کیفیت ہے طاری
کئی دنوں سے
تِری جدائی کا خوف آنکھوں میں آ بسا ہے
تِری جدائی جو آج تک تو
محض ذہن کی تخیّلاتی حدودوں کے اندر کا ماجرا ہے
بے نشاں
وہ دن ابھی تک نگاہ میں ہیں
کہ ہم نے گھنٹوں قریب بیٹھے
زمانے بھر کے دکھوں سکھوں کے حوالے دے کر
زباں بیاں کے جوہر دکھائے تھے
اور سوچا
کہ ہم کبھی بھی جدا نہ ہوں گے