Showing posts with label فواد حسن. Show all posts
Showing posts with label فواد حسن. Show all posts

Monday, 27 March 2023

ہم نے مٹی کی محبت میں بغاوت نہیں کی

ہم نے مٹی کی محبت میں بغاوت نہیں کی

لاکھ مصلوب ہوئے پر کہیں ہجرت نہیں کی

اب نہیں تو سرِ محشر ہی یہ اٹھے گا سوال

منصفِ وقت نے انصاف کی جرأت نہیں کی

محتسب میرا کسی اور کا ہے حاشیہ گر

اس نے بے وجہ تو مجھ پر یہ عنایت نہیں کی

Thursday, 1 September 2022

مرقد گمنام سے سید علی گیلانی کا پیغام

 مرقدِ گمنام سے سید علی گیلانی کا پیغام


سو تم یہ سوچتے ہو کہ

اگر تم میرے اس فانی بدن کو

میرے لوگوں، میرے بچوں کی

نگاہوں سے پرے جا کر

کہیں پر دفن کر دو گے

Thursday, 4 February 2021

مجھے یقین کہ تو صاحب ہنر ہی نہیں

 مجھے یقین کہ تُو صاحبِ ہنر ہی نہیں

مجھے یہ زعم کوئی اور چارہ گر ہی نہیں

ہر ایک سمت کھڑی ہیں مہیب دیواریں

عجیب شہر ہے جس میں کوئی شجر ہی نہیں

امیرِ شہر کا مطمع حصولِ تختِ نگیں

غریبِ شہر کی لیکن گزر بسر ہی نہیں

Saturday, 30 January 2021

وہ دن ابھی تک نگاہ میں ہیں

 بے نشاں


وہ دن ابھی تک نگاہ میں ہیں

کہ ہم نے گھنٹوں قریب بیٹھے

زمانے بھر کے دُکھوں سُکھوں کے حوالے دے کر

زباں بیاں کے جوہر دکھائے تھے

اور سوچا

کہ ہم کبھی جُدا نہ ہوں گے

Thursday, 28 January 2021

مرے بیٹے مری جاں تم میری تقلید نہ کرنا (مکمل)

سلال حسن کے لیے ایک نظم


مِرے بیٹے، مِری جاں

تم میری تقلید نہ کرنا

اگر اس خطۂ ارضی پہ رہنا ہے

تو سچ کو سچ نہ کہنا

حرف کی حُرمت پہ کٹ مرنے کا سودا

سر میں نہ رکھنا

Tuesday, 26 January 2021

وادی نے نئے شہيدوں کی فصل تيار کر رکھی ہے

اقتباس از کشمیر 2020


سُنا ہے وادی نے

آنے والے برس کی خاطر 

نئے شہيدوں کی فصل تيار کر رکھی ہے 

يہ معرکہ اب جنوں کی ساری حدوں سے 

آگے گزر گيا ہے 

Saturday, 23 January 2021

آنے والی حقیقتیں

 آنے والی حقیقتیں


کئی دنوں سے دل و ذہن پہ

عجیب سی کیفیت ہے طاری

کئی دنوں سے

تِری جدائی کا خوف آنکھوں میں آ بسا ہے

تِری جدائی جو آج تک تو

Tuesday, 29 December 2020

تری جدائی کا خوف آنکھوں میں آ بسا ہے

 آنے والی حقیقتیں


کئی دنوں سے دل و ذہن پہ

عجیب سی کیفیت ہے طاری

کئی دنوں سے

تِری جدائی کا خوف آنکھوں میں آ بسا ہے

تِری جدائی جو آج تک تو

محض ذہن کی تخیّلاتی حدودوں کے اندر کا ماجرا ہے

Sunday, 13 December 2020

وہ دن ابھی تک نگاہ میں ہیں

بے نشاں


 وہ دن ابھی تک نگاہ میں ہیں

کہ ہم نے گھنٹوں قریب بیٹھے

زمانے بھر کے دکھوں سکھوں کے حوالے دے کر

زباں بیاں کے جوہر دکھائے تھے

اور سوچا

کہ ہم کبھی بھی جدا نہ ہوں گے