Thursday, 4 February 2021

مجھے یقین کہ تو صاحب ہنر ہی نہیں

 مجھے یقین کہ تُو صاحبِ ہنر ہی نہیں

مجھے یہ زعم کوئی اور چارہ گر ہی نہیں

ہر ایک سمت کھڑی ہیں مہیب دیواریں

عجیب شہر ہے جس میں کوئی شجر ہی نہیں

امیرِ شہر کا مطمع حصولِ تختِ نگیں

غریبِ شہر کی لیکن گزر بسر ہی نہیں

کچھ اس طرح سے غریب اس کا آشکار ہوا

کہ اس کی بات میں پہلا سا وہ اثر ہی نہیں

درست ہے کہ میں محصور ہوں پسِ دیوار

مگر یہ بات غلط ہے کہ میرے پر ہی نہیں

اگرچہ پھیلا ہے ہے ہر سُو یہ جبر کا موسم

بہار آ کے رہے گی، انہیں خبر ہی نہیں

لکھے تو کون لکھے طرزِ جالب و شورش

جو سوچے وقت سے آگے وہ چارہ گر ہی نہیں

⛓حسن فواد بنا ہے ⛓ضمیر کا قیدی

وہ قید جس سے کوئی صورتِ مفر ہی نہیں


فواد حسن فواد

No comments:

Post a Comment