Showing posts with label ولید سورانی. Show all posts
Showing posts with label ولید سورانی. Show all posts

Tuesday, 4 July 2023

یقیناً یہ ایک حادثہ کافی ہے اداسی منانے کے لیے

 جب میرے پاس اُداسی منانے کے لیے کوئی تہوار نہیں تھا

تب میں نے یاد کیا 

وہ ایک بوسہ 

جو میرے ناکام ہونے پر میری ماں نے مجھے دیا تھا 

جب مجھے چُومنے کے لیے 

میرے پاس میری ماں نہیں تھی 

Friday, 2 June 2023

موت کی ہتھیلی پہ لکھی نظم

 موت کی ہتھیلی پہ لکھی نظم 


تنہائی کی رات 

جب ہم اپنی عورتوں کے ناف چومتے ہیں 

تو خوابوں میں اس کے پیٹ پھٹنے لگتے ہیں 

ہم اپنے خواب واپس مانگتے ہیں 

اور ہمیں بدلے میں بوسے دئیے جاتے ہیں 

Tuesday, 30 May 2023

خدا کاش عورت مجھے نہ بناتا

 Menses


میں پچھلے جنم میں 

کسی ایک عورت کی صورت میں پیدا ہوا تھا

بمشکل میں جب سولہ کی عمر تک آ پہنچی 

تو بِن پوچھے شادی کی رسی سے میرے 

حسیں ہاتھ باندھے گئے تھے 

Monday, 29 May 2023

ہاں مگر مجھ کو معلوم ہے وہ نہیں آئے گا

 وہ نہیں آئے گا 


روز میں حسرتوں کی نگاہ اوڑھ کر 

راستے کی طرف 

دیکھتا ہوں کہ شاید کوئی لوٹ کر آئے گا 

پھر بھی ڈرتا ہوں میں 

بدگمانی کے سائے نحوست لیے 

Sunday, 28 May 2023

میں اپنی ہتھیلی پر بنائے ہوئے گھر میں

 سانحہ، جو کبھی نہیں ہوا 

میں اپنی ہتھیلی پر بنائے ہوئے گھر میں 

زیادہ خوش نہیں تھا 

جہاں چراغ میری آنسوؤں سے جل رہے تھے 

جب ریت سے بھری ہوئی کھوپڑی میں 

وحشت کے گلاب اُگ آئے 

Tuesday, 28 March 2023

لوٹ آنا کواڑ کی اوٹ میں چھپی یوئی یادیں

 لوٹ آنا 

اگر ندی میں بہتے ہوئے پھول 

اور سردی کی شاموں میں 

کواڑ کی اوٹ میں چھپی یوئی یادیں

تمہیں تنگ کریں 

زنگ آلود تالے