جب میرے پاس اُداسی منانے کے لیے کوئی تہوار نہیں تھا
تب میں نے یاد کیا
وہ ایک بوسہ
جو میرے ناکام ہونے پر میری ماں نے مجھے دیا تھا
جب مجھے چُومنے کے لیے
میرے پاس میری ماں نہیں تھی
جب میرے پاس اُداسی منانے کے لیے کوئی تہوار نہیں تھا
تب میں نے یاد کیا
وہ ایک بوسہ
جو میرے ناکام ہونے پر میری ماں نے مجھے دیا تھا
جب مجھے چُومنے کے لیے
میرے پاس میری ماں نہیں تھی
موت کی ہتھیلی پہ لکھی نظم
تنہائی کی رات
جب ہم اپنی عورتوں کے ناف چومتے ہیں
تو خوابوں میں اس کے پیٹ پھٹنے لگتے ہیں
ہم اپنے خواب واپس مانگتے ہیں
اور ہمیں بدلے میں بوسے دئیے جاتے ہیں
Menses
میں پچھلے جنم میں
کسی ایک عورت کی صورت میں پیدا ہوا تھا
بمشکل میں جب سولہ کی عمر تک آ پہنچی
تو بِن پوچھے شادی کی رسی سے میرے
حسیں ہاتھ باندھے گئے تھے
وہ نہیں آئے گا
روز میں حسرتوں کی نگاہ اوڑھ کر
راستے کی طرف
دیکھتا ہوں کہ شاید کوئی لوٹ کر آئے گا
پھر بھی ڈرتا ہوں میں
بدگمانی کے سائے نحوست لیے
سانحہ، جو کبھی نہیں ہوا
میں اپنی ہتھیلی پر بنائے ہوئے گھر میں
زیادہ خوش نہیں تھا
جہاں چراغ میری آنسوؤں سے جل رہے تھے
جب ریت سے بھری ہوئی کھوپڑی میں
وحشت کے گلاب اُگ آئے
لوٹ آنا
اگر ندی میں بہتے ہوئے پھول
اور سردی کی شاموں میں
کواڑ کی اوٹ میں چھپی یوئی یادیں
تمہیں تنگ کریں
زنگ آلود تالے