گئے دنوں کے دریچے سجانے لگتے ہیں
ہم اپنے حال کو ماضی بنانے لگتے ہیں
خلوص و مہر و محبت کی قدر ختم ہوئی
حیاتِ نو میں یہ سِکے پرانے لگتے ہیں
وہ کون ہے جو انہیں کھیلنے نہیں دیتا
وہ کم سِنی میں جو روزی کمانے لگتے ہیں
گئے دنوں کے دریچے سجانے لگتے ہیں
ہم اپنے حال کو ماضی بنانے لگتے ہیں
خلوص و مہر و محبت کی قدر ختم ہوئی
حیاتِ نو میں یہ سِکے پرانے لگتے ہیں
وہ کون ہے جو انہیں کھیلنے نہیں دیتا
وہ کم سِنی میں جو روزی کمانے لگتے ہیں
سونے سونے دار و رسن بتلاتے ہیں
سچ کہنے سے لوگ بہت کتراتے ہیں
آنسو بن جاتے ہیں، غم کہلاتے ہیں
وہ جذبے جو دل ہی میں مر جاتے ہیں
یہ ہے بات جدا وہ ہم سے کہہ نہ سکے
ورنہ خواب تو گونگے کو بھی آتے ہیں
یاد کا روگ مت لگا پیارے
عہد ماضی کو بھول جا پیارے
جی بہلتا نہیں تصور سے
تُو کبھی سامنے بھی آ پیارے
نام کے رہ گئے ہیں دنیا میں
دوست، احباب، اقربا، پیارے
یاس ہی سے کبھی گزر پیارے
منتظر ہیں دل و نظر پیارے
پھول کھلتے گئے محبت کے
تُو نے دیکھا جدھر جدھر پیارے
گوہر دل کی قدر کیا کرتے
یہ حسیں لوگ کم نظر پیارے
اپنے حالات کے دھاگوں سے بُنی ہے میں نے
آج اک تازہ غزل اور کہی ہے میں نے
کِس ضرورت کو دباؤں کِسے پورا کر لوں
اپنی تنخواہ کئی بار گِنی ہے میں نے
میں تو جیسا بھی ہوں سب لوگ مجھے جانتے ہیں
تیرے بارے میں بھی اک بات سنی ہے میں نے
فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے
آؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے
عرش کانپ جاتا تھا ایک دل دُکھانے سے
وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے
خواہشیں نہیں مرتیں خواہشیں دبانے سے
امن ہو نہیں سکتا گولیاں چلانے سے