گردن میں طوق پاؤں میں زنجیر دیکھ کر
حیرت ہوئی ہے دوست کی تصویر دیکھ کر
کل رات ہم نے خوب ستاروں کی سیر کی
کوئی بتائے خواب کی تعبیر دیکھ کر
عشق و وفا خلوص سے انجان ہیں وہ لوگ
رشتہ نبھا رہے ہیں جو جاگیر دیکھ کر
گردن میں طوق پاؤں میں زنجیر دیکھ کر
حیرت ہوئی ہے دوست کی تصویر دیکھ کر
کل رات ہم نے خوب ستاروں کی سیر کی
کوئی بتائے خواب کی تعبیر دیکھ کر
عشق و وفا خلوص سے انجان ہیں وہ لوگ
رشتہ نبھا رہے ہیں جو جاگیر دیکھ کر
تِری خدمات میں بیٹھے ہوئے ہیں
کہ سب اوقات میں بیٹھے ہوئے ہیں
چھپانا چاہتے ہیں اپنے آنسو
سو ہم برسات میں بیٹھے ہوئے ہیں
بہت دشوار ہے گھر سے نکلنا
عدو سب گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں
مبارک باد پھولوں کے لیے اور خار پر لعنت
ارے مالی اصولوں پر تِرے کردار پر لعنت
جو حاصل ہے وہی کافی ہے بس میرے گزارے کو
کروں میں شکریہ اس پار کا اس پار پر لعنت
وہ جس کی دید سے آنکھوں کی بینائی چلی جائے
تو اس حُسن سراپا کے ہے پھر دیدار پر لعنت
اس کو جتنا بھُلا رہا ہوں میں
اتنا نزدیک پا رہا ہوں میں
سنگ تو آج ہوں میں اس کے لیے
مُدتوں آئینہ رہا ہوں میں
جو اُٹھاتے نہیں ہے فون تلک
ان کے نخرے اُٹھا رہا ہوں میں