Showing posts with label انور مینائی. Show all posts
Showing posts with label انور مینائی. Show all posts

Tuesday, 20 September 2022

احساس کی رگوں میں اترنے لگا ہے وہ

 احساس کی رگوں میں اُترنے لگا ہے وہ

اب بُوند بُوند مجھ میں بِکھرنے لگا ہے وہ

گُمنامیوں کی اندھی گُپھائیں ہوں نوحہ خواں

مانندِ آفتاب اُبھرنے لگا ہے وہ

کیسے کہوں کہ غم ہوا خوابوں کی بھیڑ میں

زخموں کا اِندمال تو کرنے لگا ہے وہ

Thursday, 8 September 2022

آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے

 آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے

شہر میں وحشی در آئے کیا جنگل سے

سارے مسائل لا ینحل سے لگتے ہیں

نکلوں کیسے سوچ کی گہری دلدل سے

برف نما سی تاروں کی چنچل کرنیں

چھن کر نکلیں رات کے کالے آنچل سے

Sunday, 4 September 2022

خواب بکھریں گے تو ہم کو بھی بکھرنا ہو گا

 خواب بکھریں گے تو ہم کو بھی بکھرنا ہو گا

شب کی اک ایک اذیت سے گزرنا ہو گا

وہ ہمارے ہی رگ و پے میں نہاں رہتا ہے

اس کی تصدیق تو اک دن ہمیں کرنا ہو گا

اپنے خاکستر تن کو لیے کوچہ کوچہ

کیا ہواؤں کی طرح مجھ کو گزرنا ہو گا

Saturday, 3 September 2022

جب زمیں کے مقدر سنور جائیں گے

 جب زمیں کے مقدر سنور جائیں گے

آسماں سے فرشتے اتر آئیں گے

کیسے پھیلیں گے وہ لوگ افق تا افق

اپنے اندر سمٹ کر جو رہ جائیں گے

چاندنی موج در موج لہرائے گی

عکس تاروں کے پانی سے تھرّائیں گے

Saturday, 23 April 2022

مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا

 مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا

زہر ہی زہر مِرے جسم کے اندر پھیلا

سبز موسم میں بھی ہو جس کی شباہت پیلی

اس چمن میں کہیں شعلے کہیں پتھر پھیلا

خوفناکی اثر انداز ہوا کرتی ہے

اس کو اخبار کی مانند نہ گھر گھر پھیلا