احساس کی رگوں میں اُترنے لگا ہے وہ
اب بُوند بُوند مجھ میں بِکھرنے لگا ہے وہ
گُمنامیوں کی اندھی گُپھائیں ہوں نوحہ خواں
مانندِ آفتاب اُبھرنے لگا ہے وہ
کیسے کہوں کہ غم ہوا خوابوں کی بھیڑ میں
زخموں کا اِندمال تو کرنے لگا ہے وہ
احساس کی رگوں میں اُترنے لگا ہے وہ
اب بُوند بُوند مجھ میں بِکھرنے لگا ہے وہ
گُمنامیوں کی اندھی گُپھائیں ہوں نوحہ خواں
مانندِ آفتاب اُبھرنے لگا ہے وہ
کیسے کہوں کہ غم ہوا خوابوں کی بھیڑ میں
زخموں کا اِندمال تو کرنے لگا ہے وہ
آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے
شہر میں وحشی در آئے کیا جنگل سے
سارے مسائل لا ینحل سے لگتے ہیں
نکلوں کیسے سوچ کی گہری دلدل سے
برف نما سی تاروں کی چنچل کرنیں
چھن کر نکلیں رات کے کالے آنچل سے
خواب بکھریں گے تو ہم کو بھی بکھرنا ہو گا
شب کی اک ایک اذیت سے گزرنا ہو گا
وہ ہمارے ہی رگ و پے میں نہاں رہتا ہے
اس کی تصدیق تو اک دن ہمیں کرنا ہو گا
اپنے خاکستر تن کو لیے کوچہ کوچہ
کیا ہواؤں کی طرح مجھ کو گزرنا ہو گا
جب زمیں کے مقدر سنور جائیں گے
آسماں سے فرشتے اتر آئیں گے
کیسے پھیلیں گے وہ لوگ افق تا افق
اپنے اندر سمٹ کر جو رہ جائیں گے
چاندنی موج در موج لہرائے گی
عکس تاروں کے پانی سے تھرّائیں گے
مخملی خواب کا آنکھوں میں نہ منظر پھیلا
زہر ہی زہر مِرے جسم کے اندر پھیلا
سبز موسم میں بھی ہو جس کی شباہت پیلی
اس چمن میں کہیں شعلے کہیں پتھر پھیلا
خوفناکی اثر انداز ہوا کرتی ہے
اس کو اخبار کی مانند نہ گھر گھر پھیلا