Thursday, 8 September 2022

آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے

 آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے

شہر میں وحشی در آئے کیا جنگل سے

سارے مسائل لا ینحل سے لگتے ہیں

نکلوں کیسے سوچ کی گہری دلدل سے

برف نما سی تاروں کی چنچل کرنیں

چھن کر نکلیں رات کے کالے آنچل سے

ذہن سے یوں ہے فکر و نظر کا اب رشتہ

پنگھٹ کو اک ربط ہو جیسے چھاگل سے

یاد کی خوشبو دل کے نگر میں پھیلے گی

غم کے سائے لگتے ہیں اب شیتل سے

جسم و جاں پر سناٹوں کا پہرہ ہو

باز آیا میں اب دنیا کی ہلچل سے

تنہائی کا زہر بھلا کیا پھیلے گا

چھائے ہو تم احساس پہ میرے بادل سے


انور مینائی

No comments:

Post a Comment