Thursday, 8 September 2022

نظروں کی ضد سے یوں تو میں غافل نہیں رہا

 نظروں کی ضد سے یوں تو میں غافل نہیں رہا

پہلو میں اے مشیر مگر دل نہیں رہا

اے دل! تصورات کا حاصل نہیں رہا

کوئی مِری نظر کے مقابل نہیں رہا

موجوں پہ اعتماد نہ کیونکر کرے کوئی

ساحل تو اعتبار کے قابل نہیں رہا

آدابِ بزمِ ناز پہ اے دل! نظر تو ہے

مانا کہ درد ضبط کے قابل نہیں رہا 

وہ چشمِ عشوہ کار ہے آمادۂ کرم 

اب درد اعتبار کے قابل نہیں رہا 

جلووں کا احترام نگاہوں میں ہے مشیر

میں اپنے فرض سے کبھی غافل نہیں رہا


مشیر جھنجھانوی

No comments:

Post a Comment