Showing posts with label عاطف توقیر. Show all posts
Showing posts with label عاطف توقیر. Show all posts

Wednesday, 7 July 2021

دائرہ زدہ لوگو دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں

 دائرہ زدہ لوگو

دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں

سر نگوں مسافت میں راستے تو ہوتے ہیں

خستگی بھی ہوتی ہے

طے ہوئے تماشے کا اک خیالِ پیہم بھی

پر ہٹاؤ جوں کا توں اور کٹاؤ جوں کا توں

Wednesday, 9 June 2021

شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے

 شوقِ سرور شامِ غم اپنے سوا کسی کا ہے

جام و سبو کسی کے ہیں، کیف و نشہ کسی کا ہے

خود تک پہنچ کے دیکھیے، کیا کیا پڑے گا بیچ میں

گویا قبا ہے آپ کی، بندِ قبا کسی ہے

خیمۂ سامری کو ہے اژدہائے رامس کا خوف

یعنی عصا کسی کی ہے، یعنی خدا کسی کا ہے

Monday, 11 January 2021

وجود عشق کا کوئی سرا ملا نہیں ملا

 وجودِ عشق کا کوئی سِرا ملا نہیں ملا 

خودی ملی نہیں ملی خدا ملا، نہیں ملا 

تمام شہر میں ملے گلے ہزار رات سے 

مگر کہیں کسی جگہ دِیا ملا، نہیں ملا 

تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے نہیں ملے 

ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا، نہیں ملا 

Sunday, 10 January 2021

پیران جبہ و خدا سارا فساد ایک ہے

 پیرانِ جبہ و خدا سارا فساد ایک ہے

سب کا خدا الگ سہی سب کا مفاد ایک ہے

چاروں طرف ہیں مذہبی چاروں طرف ہیں نفرتیں

سب کی نماز ایک ہے، سب کا جہاد ایک ہے

طبعِ شعور و فکر کی زد پر رہا ہے اختیار

صدیوں سے شیخ و شاہ کو ہم سے عناد ایک ہے

Tuesday, 5 January 2021

نگاہ تیرہ نظر کا دکھ ہے

 اے وادئ خشک و سبز پربت

تُو اپنی خوشبو سے ڈر رہی ہے

تِرے صحیفہ نما بدن پر

پہ کیسی آیت اتر رہی ہے

سکوتِ زنداں کی پتلیوں پر

نگاہِ تیرہ نظر کا دکھ ہے

Saturday, 26 December 2020

میں بھی خدا پرست ہوں تو بھی خدا پرست ہے

 میں بھی خدا پرست ہوں تو بھی خدا پرست ہے

لیکن ہمارے درمیاں پھر بھی بلند و پست ہے

ایسی گھنیری تیرگی کہ اک دِیا 🪔 بھی معتبر

ایسی کٹھن مسافتیں کہ اک قدم بھی جست ہے

زِنداں میں آنکھ بند کی، یادوں کا در سا وا ہوا

یعنی بلا کے حبس میں سانسوں کا بندوبست ہے

Saturday, 12 December 2020

وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا

 وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا

مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا

وہ راہ سے چلا گیا، تو راہ موڑ بن گئی

مرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا

کسی دِیے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی

یہاں جلا کے رکھ دیا، وہاں بجھا کے رکھ دیا

Friday, 11 December 2020

مشورہ ہے مجھے میرے احباب کا

 مشورہ


مشورہ ہے مجھے میرے احباب کا

ہونٹ سی لوں کہ خطرہ مِری جاں کو ہے

روشنی کے شکاری ہیں نکلے ہوئے

وحشتوں کی ضرورت شبستاں کو ہے


وہ جو شمشیر میرے تحفظ کو تھی

وہ ہمیشہ مِرا سر اڑاتی رہی