دائرہ زدہ لوگو
دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں
سر نگوں مسافت میں راستے تو ہوتے ہیں
خستگی بھی ہوتی ہے
طے ہوئے تماشے کا اک خیالِ پیہم بھی
پر ہٹاؤ جوں کا توں اور کٹاؤ جوں کا توں
دائرہ زدہ لوگو
دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں
سر نگوں مسافت میں راستے تو ہوتے ہیں
خستگی بھی ہوتی ہے
طے ہوئے تماشے کا اک خیالِ پیہم بھی
پر ہٹاؤ جوں کا توں اور کٹاؤ جوں کا توں
شوقِ سرور شامِ غم اپنے سوا کسی کا ہے
جام و سبو کسی کے ہیں، کیف و نشہ کسی کا ہے
خود تک پہنچ کے دیکھیے، کیا کیا پڑے گا بیچ میں
گویا قبا ہے آپ کی، بندِ قبا کسی ہے
خیمۂ سامری کو ہے اژدہائے رامس کا خوف
یعنی عصا کسی کی ہے، یعنی خدا کسی کا ہے
وجودِ عشق کا کوئی سِرا ملا نہیں ملا
خودی ملی نہیں ملی خدا ملا، نہیں ملا
تمام شہر میں ملے گلے ہزار رات سے
مگر کہیں کسی جگہ دِیا ملا، نہیں ملا
تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے نہیں ملے
ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا، نہیں ملا
پیرانِ جبہ و خدا سارا فساد ایک ہے
سب کا خدا الگ سہی سب کا مفاد ایک ہے
چاروں طرف ہیں مذہبی چاروں طرف ہیں نفرتیں
سب کی نماز ایک ہے، سب کا جہاد ایک ہے
طبعِ شعور و فکر کی زد پر رہا ہے اختیار
صدیوں سے شیخ و شاہ کو ہم سے عناد ایک ہے
اے وادئ خشک و سبز پربت
تُو اپنی خوشبو سے ڈر رہی ہے
تِرے صحیفہ نما بدن پر
پہ کیسی آیت اتر رہی ہے
سکوتِ زنداں کی پتلیوں پر
نگاہِ تیرہ نظر کا دکھ ہے
میں بھی خدا پرست ہوں تو بھی خدا پرست ہے
لیکن ہمارے درمیاں پھر بھی بلند و پست ہے
ایسی گھنیری تیرگی کہ اک دِیا 🪔 بھی معتبر
ایسی کٹھن مسافتیں کہ اک قدم بھی جست ہے
زِنداں میں آنکھ بند کی، یادوں کا در سا وا ہوا
یعنی بلا کے حبس میں سانسوں کا بندوبست ہے
وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا
مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا
وہ راہ سے چلا گیا، تو راہ موڑ بن گئی
مرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا
کسی دِیے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی
یہاں جلا کے رکھ دیا، وہاں بجھا کے رکھ دیا
مشورہ
مشورہ ہے مجھے میرے احباب کا
ہونٹ سی لوں کہ خطرہ مِری جاں کو ہے
روشنی کے شکاری ہیں نکلے ہوئے
وحشتوں کی ضرورت شبستاں کو ہے
وہ جو شمشیر میرے تحفظ کو تھی
وہ ہمیشہ مِرا سر اڑاتی رہی