مشورہ
مشورہ ہے مجھے میرے احباب کا
ہونٹ سی لوں کہ خطرہ مِری جاں کو ہے
روشنی کے شکاری ہیں نکلے ہوئے
وحشتوں کی ضرورت شبستاں کو ہے
وہ جو شمشیر میرے تحفظ کو تھی
وہ ہمیشہ مِرا سر اڑاتی رہی
وہ جو مامور میری حفاظت پہ تھی
میری بندوق مجھ کو مٹاتی رہی
میں قلمکار تھا، جس نے ہر حرف کو
اپنی مٹی کی عظمت کا عنواں کیا
قوم کی سرنگونی کے احساس سے
اپنے لفظوں کو وحشت پر قرباں کیا
چپ رہا کہ میرے لفظ سچے سہی
خلقتِ شہر پر خوف طاری نہ ہو
سوچتا تھا کوئی سوچ کا زاویہ
حاکموں کی سماعت پر بھاری نہ ہو
پر میری چپ میں گھر میرا جلتا رہا
میری گلیاں کہ خبریں اگلتی رہیں
میرے اپنے کئی گمشدہ ہو گئے
مسخ لاشیں تواتر سے ملتی رہیں
سلسلۂ ہوس ناک چلتا رہا
شہر جلتا رہا، دیس جلتا رہا
لوگ مرتے رہے، در اکھڑتے رہے
ایک کے بعد اک گھر اجڑتا رہا
آج سندھو سے فاٹا تلک خون ہے
میرے کشمیر، بولان سنسانیاں
میرے شہروں میں ہیں عسکری ٹولیاں
میرے کھیتوں میں اگتی ہوئی گولیاں
مشورہ ہے مجھے میرے احباب کا
شہر میں زخم پر چیخنا جرم ہے
ظالموں کو سہولت مہیا کرو
سوچنا جرم ہے، بولنا جرم ہے
گمشدہ دوستوں کی شکایت نہ ہو
مسخ لاشوں پہ کوئی عبارت نہ ہو
شعر کہتے رہو، گیسو و زلف کے
خاک اڑنے کی لیکن حکایت نہ ہو
میرے احباب مجھ کو بتاتے نہیں
کیا مرا دیس بس خواب رہ جائے گا
ہو جو محدود پنڈی سے لاہور تک
کیا مرا ملک پنجاب رہ جائے گا
مشورہ ہے مجھے میرے احباب کا
ہونٹ سی لوں کہ خطرہ مری جاں کو ہے
روشنی کے شکاری ہیں نکلے ہوئے
وحشتوں کی ضرورت شبستاں کو ہے
عاطف توقیر
No comments:
Post a Comment