تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں
عہدِ وفا نبھاؤ تو کوئی غزل کہوں
نغمے بکھیر دوں گی محبت کی راہ میں
تم میرے ساتھ آؤ تو کوئی غزل کہوں
کیوں دور دور رہ کے بسے ہو خیال میں
ویران گھر سجاؤ تو کوئی غزل کہوں
تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں
عہدِ وفا نبھاؤ تو کوئی غزل کہوں
نغمے بکھیر دوں گی محبت کی راہ میں
تم میرے ساتھ آؤ تو کوئی غزل کہوں
کیوں دور دور رہ کے بسے ہو خیال میں
ویران گھر سجاؤ تو کوئی غزل کہوں
ہر اک قدم پہ عشق میں رسوائیاں ملیں
برگشتہ مجھ ہی سے مِری پرچھائیاں ملیں
پھرتی رہی سکون کی خاطر میں در بدر
جس سمت بھی گئی، مجھے تنہائیاں ملیں
دل میں تو ہم نے جھانک کے دیکھا نہیں کبھی
آنکھوں میں اُس کی جھیل سی گہرائیاں ملیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مشکلوں میں ہوں میں جینے کا ہنر مانگتی ہوں
میرے مولیٰ! تری رحمت کے گہر مانگتی ہوں
مجھ کو رہنے کے لیے یہ زمیں درکار نہیں
جس میں روضے کا تصور ہو وہ گھر مانگتی ہوں
دولتِ دیں تو مکمل نہیں ہو گی آقاﷺ
تیری یادوں میں بسا رختِ سفر گھر مانگتی ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تری ہی ذات پہ سب کا یقیں ہے
یہی سچ ہے تُو رب العالمیں ہے
یقیناً اس کا دوزخ ہے ٹھکانا
تِری رحمت کا جو قائل نہیں ہے
یہ دشت و در سمندر بھی ہیں تیرے
تِرے افلاک ہیں تیری زمیں ہے
سفر کو نکلے تو کوئی راہبر نہ ملا
تلاش کرتے رہے عمر بھر مگر نہ ملا
ہر ایک شخص نے چہرہ تو پڑھ لیا، لیکن
جو دل کی بات سمجھتا وہ دیدہ ور نہ ملا
ہزاروں لوگ تھے اونچی عمارتوں والے
ہمیں تو سر کے چھپانے کو ایک گھر نہ ملا