Showing posts with label پروین صبا. Show all posts
Showing posts with label پروین صبا. Show all posts

Monday, 6 July 2026

تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں

 تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں

عہدِ وفا نبھاؤ تو کوئی غزل کہوں

نغمے بکھیر دوں گی محبت کی راہ میں

تم میرے ساتھ آؤ تو کوئی غزل کہوں

کیوں دور دور رہ کے بسے ہو خیال میں

ویران گھر سجاؤ تو کوئی غزل کہوں

Monday, 17 February 2025

ہر اک قدم پہ عشق میں رسوائیاں ملیں

 ہر اک قدم پہ عشق میں رسوائیاں ملیں

برگشتہ مجھ ہی سے مِری پرچھائیاں ملیں

پھرتی رہی سکون کی خاطر میں در بدر

جس سمت بھی گئی، مجھے تنہائیاں ملیں

دل میں تو ہم نے جھانک کے دیکھا نہیں کبھی

آنکھوں میں اُس کی جھیل سی گہرائیاں ملیں

Tuesday, 10 September 2024

مشکلوں میں ہوں میں جینے کا ہنر مانگتی ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مشکلوں میں ہوں میں جینے کا ہنر مانگتی ہوں

میرے مولیٰ! تری رحمت کے گہر مانگتی ہوں

مجھ کو رہنے کے لیے یہ زمیں درکار نہیں

جس میں روضے کا تصور ہو وہ گھر مانگتی ہوں

دولتِ دیں تو مکمل نہیں ہو گی آقاﷺ

تیری یادوں میں بسا رختِ سفر گھر مانگتی ہوں

Monday, 9 September 2024

تری ہی ذات پہ سب کا یقیں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تری ہی ذات پہ سب کا یقیں ہے

یہی سچ ہے تُو رب العالمیں ہے

یقیناً اس کا دوزخ ہے ٹھکانا

تِری رحمت کا جو قائل نہیں ہے

یہ دشت و در سمندر بھی ہیں تیرے

تِرے افلاک ہیں تیری زمیں ہے

Sunday, 8 September 2024

سفر کو نکلے تو کوئی راہبر نہ ملا

 سفر کو نکلے تو کوئی راہبر نہ ملا

تلاش کرتے رہے عمر بھر مگر نہ ملا

ہر ایک شخص نے چہرہ تو پڑھ لیا، لیکن

جو دل کی بات سمجھتا وہ دیدہ ور نہ ملا

ہزاروں لوگ تھے اونچی عمارتوں والے

ہمیں تو سر کے چھپانے کو ایک گھر نہ ملا