Showing posts with label ایاز جھانسوی. Show all posts
Showing posts with label ایاز جھانسوی. Show all posts

Monday, 7 September 2020

نہ مری نظر میرے ساتھ ہے نہ میری زباں میرے ساتھ ہے

نہ مری نظر میرے ساتھ ہے نہ میری زباں میرے ساتھ ہے
تیرا عشق ہے میری زندگی تیری داستاں میرے ساتھ ہے

تُو اگر ہے جلوہ تو میں نظر، تُو اگر ہے آہ تو میں اثر
میں وہاں وہاں تیرے ساتھ ہوں تُو جہاں جہاں میرے ساتھ ہے
نہ مری نظر میرے ساتھ ہے نہ میری زباں میرے ساتھ ہے

Tuesday, 20 December 2016

مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ہے

مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ہے
جو چاہا جائے وہ ہوتا نہیں ہے
کہوں غمگساروں سے کہوں کیا
کئی دن سے تمہیں دیکھا نہیں ہے
پشیماں ہوں تیری محفل سے اٹھ کر
کسی نے بھی مجھے روکا نہیں ہے

Sunday, 17 January 2016

نہ شوالے نہ کلیسا نہ حرم جھوٹے ہیں

نہ شوالے، نہ کلیسا، نہ حرم جھوٹے ہیں
بس یہی سچ ہے کے تم جھوٹے ہو ہم جھوٹے ہیں
ہم نے دیکھا ہی نہیں بولتے ان کو اب تک
کون کہتا ہے کے پتھر کے صنم جھوٹے ہیں
ان سے ملیے تو خوشی ہوتی ہے ان سے مل کر
شہر کے دوسرے لوگوں سے جو کم جھوٹے ہیں

جو شاخ ٹوٹتی ہے لچکتی ضرور ہے

جو شاخ ٹوٹتی ہے، لچکتی ضرور ہے
بجھنے سے پہلے شمع بھڑکتی ضرور ہے
ہوتا ہے جس کو دعویٰ کسی کی تلاش کا
کہتے ہیں وہ نگاہ، ۔ بھٹکتی ضرور ہے
جو جام چھو لیا ہو کسی بے شعور نے
اس جام سے شراب چھلکتی ضرور ہے

بے بسی جرم ہے حوصلہ جرم ہے

بے بسی جرم ہے، حوصلہ جرم ہے 
زندگی! تیری اک اک ادا جرم ہے 
اے صنم! تیرے بارے میں کچھ سوچ کر 
اپنے بارے میں ‌کچھ سوچنا جرم ہے 
یاد رکھنا تجھے، میرا ایک جرم تھا 
بھول جانا تجھے، دوسرا جرم ہے 

دیکھا تو میرا سایہ بھی مجھ سے جدا ملا

دیکھا تو میرا سایہ بھی مجھ سے جدا ملا
سوچا تو ہر کسی سے میرا سلسلہ ملا
شعرِ وفا میں اب کسے اہلِ وفا کہیں
ہم سے گلے ملا تو وہی بے وفا ملا
فرصت کسے تھی جو میرے حالات پوچھتا
ہر شخص اپنے بارے میں کچھ سوچتا ملا

مہکی ہیں فضائیں کس کے لیے چھائی ہیں گھٹائیں کس کے لیے

مہکی ہیں فضائیں کس کے لیے چھائی ہیں گھٹائیں کس کے لیے
مے خانے میں جب ساقی ہی نہیں میخانے میں جائیں کس کے لیے
جب مجھ سے نگاہیں ملتے ہی تم آج خفا ہو بیٹھے ہو
پھر یہ تو بتاؤ کل تم نے مانگی تھی دعائیں کس کے لیے
وہ رسمِ خرد کے دیوانے ۔۔ ہر طرزِ جنوں کے شیدائی
وہ ہوش گنوائیں کس کے لیے، ہم ہوش میں آئیں کس کے لیے

دیوانگی نے خوب کرشمے دکھائے ہیں

دیوانگی نے خوب کرشمے دکھائے ہیں
اکثر تِرے بغیر بھی ہم مسکرائے ہیں
اب اے غمِ زمانہ! تِرا کیا خیال ہے
ہم اپنے ساتھ لے کے غمِ عشق آئے ہیں
میخانے کی طرف جو بڑھے ہیں تو ہوشیار
کعبہ کا رخ کیا ہے تو ہم ڈگمگائے ہیں

یہ بھی اک دستور ہے شاید پرانا آپ کا

یہ بھی اک دستور ہے شاید پرانا آپ کا
آتے آتے راستے سے لوٹ جانا آپ کا

آپ اپنی اک جگہ کوئی مقرر کیجیے
ہم سے اب ڈھونڈا نہیں جاتا ٹھکانا آپ کا
آتے آتے راستے سے لوٹ جانا آپ کا