نہ مری نظر میرے ساتھ ہے نہ میری زباں میرے ساتھ ہے
تیرا عشق ہے میری زندگی تیری داستاں میرے ساتھ ہے
تُو اگر ہے جلوہ تو میں نظر، تُو اگر ہے آہ تو میں اثر
میں وہاں وہاں تیرے ساتھ ہوں تُو جہاں جہاں میرے ساتھ ہے
نہ مری نظر میرے ساتھ ہے نہ میری زباں میرے ساتھ ہے
میں ہزار بار لٹا تو کیا، مجھے رہزنوں سے نہیں گلہ
وہی آرزو وہی حوصلہ، وہی کارواں میرے ساتھ ہے
نہ مری نظر میرے ساتھ ہے نہ میری زباں میرے ساتھ ہے
ہے یہی نظامِ حیات کیا؟ نہ ملے گی غم سے نجات کیا؟
تیرے غم سے دور ہوا تو اب غمِ دو جہاں میرے ساتھ ہے
نہ مری نظر میرے ساتھ ہے نہ میری زباں میرے ساتھ ہے
تیرا عشق ہے میری زندگی تیری داستاں میرے ساتھ ہے
ایاز جھانسوی
No comments:
Post a Comment