نئے فتنے اٹھاتے، انقلابِ بحر و بر کرتے
وہ آتے ہیں نظامِ دہر کو زیر و زبر کرتے
کفایت ایک ہی آنسو پہ کی تھی اور رخصت ہو گئے
ہم اپنی داستاں آخر کہاں تک مختصر کرتے
جو ان کی نرگسِ مخمور کا دیدار ہو جاتا
ہم آۓ ہیں نئی دنیا سے جانا ہے نئی دنیا
جہانِ رنگ و بو میں بھی نکل آئے سفر کرتے
خبر ہوتی کہ دل خود جلوہ گاہِ خاص ہے ان کی
تو پھر حیرتؔ ہم ان کی جستجو کیوں در بدر کرتے
حیرت بدایونی
No comments:
Post a Comment