Monday, 7 September 2020

اگر ساقی تسلی بخش سمجھوتا نہیں ہوتا

اگر ساقی تسلی بخش سمجھوتا نہیں ہوتا
تو پھر تشنہ لبوں کا جوش بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا
جو خود مختارِ گلشن ہیں وہاں ایسا نہیں ہوتا
عنادل کی فغاں و آہ پر پہرا نہیں ہوتا
وفاداری کے دستور العمل ہی کو بدل ڈالے
محبت میں کسی کم بخت سے اتنا نہیں ہوتا
وفورِ عشق سے ہر چند مالا مال ہے لیکن
شعورِ عاشقی انسان میں پیدا نہیں ہوتا
جب آتا ہے تو پھر طوفان پر طوفان آتا ہے
نہیں ہوتا تو برسوں فتنہ بھی برپا نہیں ہوتا
غمِ دل سے گراں تر ہے غمِ دنیا و ما فیہا
یہ غم پیدا کیا جاتا ہے، خود پیدا نہیں ہوتا
تمہیں انصاف سے کہہ دو، مسیحا ہو کہ قاتل ہو
کہ ہر بیمار مر جاتا تو ہے، اچھا نہیں ہوتا
غموں کی کوئی حد بھی ہے، کہاں تک سختیاں جھیلے
کسی کا دل ہو، دل ہوتا ہے، پتھر کا نہیں ہوتا
یہاں تفریقِ شیخ و برہمن اچھی نہیں ساقی
یہاں کوئی کسی کے خون کا پیاسا نہیں ہوتا
وہ بھی اک پردہ تھا حیرت جسے تم جلوہ سمجھے ہو
جو آنکھوں کو نظر آ جائے وہ جلوا نہیں ہوتا

حیرت بدایونی

No comments:

Post a Comment