Showing posts with label تہذیب ابرار. Show all posts
Showing posts with label تہذیب ابرار. Show all posts

Sunday, 31 December 2023

اے خدا جن کا مقدر یہ زیاں ہو میں نہ ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے خدا! جن کا مقدر یہ زیاں ہو، میں نہ ہوں

سُوئے طیبہ دوستوں کا کارواں ہو میں نہ ہوں

جس کو حاصل ہی نہیں ہو گی شفاعت آپﷺ کی

حشر کے میداں میں وہ طبقہ جہاں ہو، میں نہ ہوں

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی مِری بد قسمتی

انؐ کے مداحوں میں ربِ دو جہاں ہو میں نہ ہوں

Saturday, 11 March 2023

صبر کی تلوار سے صدمات پر حملہ کیا

 صبر کی تلوار سے صدمات پر حملہ کیا

اس طرح میں نے برے حالات پر حملہ کیا

کھول کر زلفیں، کیا سورج کی تابانی کو زیر

رخ سے کچھ پردہ ہٹا کر رات پر حملہ کیا

کیوں خیالوں میں بھی شہنائی نہیں بجتی کہیں

کس نے یادوں کی حسیں بارات پر حملہ کیا

Friday, 28 October 2022

غم جاناں جہاں لکھا گیا ہے

 غم جاناں جہاں لکھا گیا ہے

وہیں پر رائیگاں لکھا گیا ہے

جہاں آباد ہے یادوں کی بستی

اسی کو دشت جاں لکھا گیا ہے

ستم اپنوں کے ظاہر ہو گئے ہیں

مِرا درد نہاں لکھا گیا ہے

Tuesday, 25 October 2022

لگا دیا مری وحشت نے سب ٹھکانے سے

 لگا دیا مری وحشت نے سب ٹھکانے سے

ہوا تو ڈرتی ہے اب خاک تک اڑانے سے

مِری نظر سے ہوا، اک غلط شکار ہے وہ

یہ تیر چوک گیا تھا کبھی نشانے سے

یہ رقص اس کی بدولت ہے وحشتوں کا یہاں

وگرنہ، کون ہے واقف مِرے ٹھکانے سے

Monday, 24 October 2022

تری نظر میں ترے دل میں گھر کیا جائے

 تِری نظر میں تِرے دل میں گھر کیا جائے

اب اس خیال ہی کو درگزر کیا جائے

علاوہ عشق کے ہے ہی نہیں زمانے میں

کوئی بھی کام، جسے عمر بھر کیا جائے 

نگاہِ غیر سے بھی دیکھنا کبھی خود کو 

یہ کام سخت بہت ہے، مگر کیا جائے 

Saturday, 22 October 2022

محبتوں کا یہی مسئلہ نہیں جاتا

 محبتوں کا یہی مسئلہ نہیں جاتا

ہم اس سے کیسے کہیں کیا کہا نہیں جاتا

وہ درد ہے تو مِرے دل سے کیوں نہیں اٹھتا

یہ درد وہ ہے، جو مجھ سے سہا نہیں جاتا

یہ کس جہان کا نقشہ دیا گیا ہے مجھے

کہ اس کی سمت کوئی راستہ نہیں جاتا

Saturday, 16 July 2022

صبر کی تلوار سے صدمات پر حملہ کیا

صبر کی تلوار سے صدمات پر حملہ کیا

اس طرح میں نے بُرے حالات پر حملہ کیا

کھول کر زُلفیں، کِیا سُورج کی تابانی کو زیر

رُخ سے کچھ پردہ ہٹا کر رات پر حملہ کیا

کیوں خیالوں میں بھی شہنائی نہیں بجتی کہیں

کس نے یادوں کی حسیں بارات پر حملہ کیا