رہزن ہوا جو راہنما ہاتھ کٹ گئے
بیری یہ راستہ جو ہوا ہاتھ کٹ گئے
غارت گرانِ امن و سکوں کو ملی پناہ
انصاف کی اٹھی جو صدا ہاتھ کٹ گئے
تبدیلئ نظام کی خاطر ہوئے نثار
ہاں، انقلاب آ تو گیا، ہاتھ کٹ گئے
رہزن ہوا جو راہنما ہاتھ کٹ گئے
بیری یہ راستہ جو ہوا ہاتھ کٹ گئے
غارت گرانِ امن و سکوں کو ملی پناہ
انصاف کی اٹھی جو صدا ہاتھ کٹ گئے
تبدیلئ نظام کی خاطر ہوئے نثار
ہاں، انقلاب آ تو گیا، ہاتھ کٹ گئے
ہے وہ دشمن تو اب یار ہو جائے گا
دوستی سے ملو، پیار ہو جائے گا
موجیں طوفاں کی شرمندہ ہونے لگیں
بیڑا ڈوبا نہیں، پار ہو جائے گا
اس کے دل میں جو بُوئے وفا ہی نہیں
وعدہ کرنا بھی بے کار ہو جائے گا
اشک آنکھوں میں آ کر سجانے لگی
تیرے غم کی ادا دل لُبھانے لگی
ہم تھے مدہوش ہم کو خبر تھی کہاں
زندگی کب غزل گُنگنانے لگی
ہم نے سوچا تھا یکسر بھُلا دیں تمہیں
دل جو تڑپا تو پھر یاد آنے لگی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
امت کے رہنما تم مولا مدینے والے
طوفاں میں ناخدا تم مولا مدینے والے
ہر لب کی ہو دعا تم مولا مدینے والے
ہر غم میں آسرا تم مولا مدینے والے
نازاں ہے تم پہ امت، تم ہو سراپا رحمت
مومن کا آئینہ تم مولا مدینے والے
برسا ہے اشکوں کا ساون بھی دل کی انگنائی میں
پھُول کِھلے ہیں غم کے کتنے آج مِری تنہائی میں
شاخ لچکنا، غُنچے ہنسنا، پنچھی گانا بھُول گئے
شامل ہے جو درد تمہارا یادوں کی پُروائی میں
سودا ہم نے اپنے جنُوں کا نہیں کیا اے اہلِ ہوش
کی ہے خاک مِٹا کر ہستی خُود ہم نے رُسوائی میں
تصویر زندگی کی بنا کر غزل کہوں
پھر زندگی میں خود کو بھلا کر غزل کہوں
تعبیر غم ہے ایسا یہ خوابوں کا شہر ہے
کیسے کسی کو خواب دکھا کر غزل کہوں
ہر اک نظر میں جاگتے کتنے سوال ہیں
کیسے نظر کسی سے ملا کر غزل کہوں