Showing posts with label صفیہ راگ. Show all posts
Showing posts with label صفیہ راگ. Show all posts

Friday, 4 April 2025

رہزن ہوا جو راہ نما ہاتھ کٹ گئے

رہزن ہوا جو راہنما ہاتھ کٹ گئے

بیری یہ راستہ جو ہوا ہاتھ کٹ گئے

غارت گرانِ امن و سکوں کو ملی پناہ

انصاف کی اٹھی جو صدا ہاتھ کٹ گئے

تبدیلئ نظام کی خاطر ہوئے نثار

ہاں، انقلاب آ تو گیا، ہاتھ کٹ گئے

Tuesday, 25 March 2025

ہے وہ دشمن تو اب یار ہو جائے گا

 ہے وہ دشمن تو اب یار ہو جائے گا

دوستی سے ملو، پیار ہو جائے گا

موجیں طوفاں کی شرمندہ ہونے لگیں

بیڑا ڈوبا نہیں، پار ہو جائے گا

اس کے دل میں جو بُوئے وفا ہی نہیں

وعدہ کرنا بھی بے کار ہو جائے گا

Sunday, 16 February 2025

اشک آنکھوں میں آ کر سجانے لگی

 اشک آنکھوں میں آ کر سجانے لگی

تیرے غم کی ادا دل لُبھانے لگی

ہم تھے مدہوش ہم کو خبر تھی کہاں

زندگی کب غزل گُنگنانے لگی

ہم نے سوچا تھا یکسر بھُلا دیں تمہیں

دل جو تڑپا تو پھر یاد آنے لگی

Sunday, 15 December 2024

امت کے رہنما تم مولا مدینے والے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


امت کے رہنما تم مولا مدینے والے

طوفاں میں ناخدا تم مولا مدینے والے

ہر لب کی ہو دعا تم مولا مدینے والے

ہر غم میں آسرا تم مولا مدینے والے

نازاں ہے تم پہ امت، تم ہو سراپا رحمت

مومن کا آئینہ تم مولا مدینے والے

Wednesday, 16 February 2022

برسا ہے اشکوں کا ساون بھی دل کی انگنائی میں

برسا ہے اشکوں کا ساون بھی دل کی انگنائی میں

پھُول کِھلے ہیں غم کے کتنے آج مِری تنہائی میں

شاخ لچکنا، غُنچے ہنسنا، پنچھی گانا بھُول گئے

شامل ہے جو درد تمہارا یادوں کی پُروائی میں

سودا ہم نے اپنے جنُوں کا نہیں کیا اے اہلِ ہوش

کی ہے خاک مِٹا کر ہستی خُود ہم نے رُسوائی میں

Sunday, 21 November 2021

تصویر زندگی کی بنا کر غزل کہوں

تصویر زندگی کی بنا کر غزل کہوں

پھر زندگی میں خود کو بھلا کر غزل کہوں

تعبیر غم ہے ایسا یہ خوابوں کا شہر ہے

کیسے کسی کو خواب دکھا کر غزل کہوں

ہر اک نظر میں جاگتے کتنے سوال ہیں

کیسے نظر کسی سے ملا کر غزل کہوں