Sunday, 21 November 2021

تصویر زندگی کی بنا کر غزل کہوں

تصویر زندگی کی بنا کر غزل کہوں

پھر زندگی میں خود کو بھلا کر غزل کہوں

تعبیر غم ہے ایسا یہ خوابوں کا شہر ہے

کیسے کسی کو خواب دکھا کر غزل کہوں

ہر اک نظر میں جاگتے کتنے سوال ہیں

کیسے نظر کسی سے ملا کر غزل کہوں

بھوکے یتیم لوریاں ہی سن کے سو گئے

آنکھوں میں کیوں نہ اشک سجا کر غزل کہوں

کوٹھوں پہ چڑھ کے رات پشیمان ہو گئی

پھر کیسے چاندنی میں نہا کر غزل کہوں

وحشت زدہ سا لگتا ہے نیندوں کا شہر بھی

خوابوں کو اپنے اب میں سلا کر غزل کہوں

تاثیر راگ ملتی ہے سب کو نصیب سے

ہاتھوں کو اب دعا میں اٹھا کر غزل کہوں


صفیہ راگ علوی

No comments:

Post a Comment