Sunday, 21 November 2021

اس پر نشہ کچھ عشق کا ایسا سوار ہے

 اُس پر نشہ کچھ عشق کا ایسا سوار ہے

آنکھوں میں اس کے مے سے زیادہ خمار ہے

پُروائی سے لو زکم ہرے ہو گئے سبھی

یہ گلشنِ وفا کی ہمارے بہار ہے

یہ بھی یقین ہے وہ پلٹ کر نہ آئے گا

آنے کا اُس کے پھر بھی مجھے انتظار ہے

تعلیم و تربیت کا جنازہ نکل گیا

تہذیب خونچکاں ہے ، تمدن فگار ہے

اردو میں لکھ کے کتبہ نہ اس پر لگایئے

ورنہ کہیں گے لوگ یہ کس کا مزار ہے

مُنصف نے کردیا ہے بری اس کو خیر سے

قاتل پہ میرے کتنا اسے اعتبار ہے

چلتا رہے گا ٭آواگمن٭ کا یہ سلسلہ

آتی بہار ہے، کوئی جاتی بہار ہے

گو جان تو اسی کی ہے جائے گی ایک دن

کہنے کو وہ متین مِرا جاں نثار ہے


متین امروہوی

٭آواگمن : آمد و رفت، آنا جانا

No comments:

Post a Comment