Sunday, 21 November 2021

مجھے لوگ درخت کہیں انسان کہے نہ کوئی

 شجر کاری مہم


اگر میرے ہاتھوں سے لگائے ہوئے درخت

میرے حق میں دعا کرنے لگ جائیں

تو شاید فرشتے مجھے دوزخ سے پرے دُھتکار دیں

کاش بالوں کے سفید ہونے سے پہلے

سانپوں کی بجائے پرندوں سے دوستی کر لیتا

میں عقل کا اندھا حقیقت کی تلاش میں خاک چھانتا رہا

اور خاک سے نکلی اتنی بڑی حقیقت نہ دیکھ سکا

درختوں کی پارسائی عالمگیری سچائی ہے کہ

خدا کو جھٹلانے والا بھی ان سے محبت کو ثواب سمجھتا ہے

کاش مرنے کے بعد کوئی میری لاش برگد کے تنے میں گاڑ دے

اس کے بعد مجھے لوگ درخت کہیں

انسان کہے نہ کوئی


عمران فیروز

No comments:

Post a Comment