شجر کاری مہم
اگر میرے ہاتھوں سے لگائے ہوئے درخت
میرے حق میں دعا کرنے لگ جائیں
تو شاید فرشتے مجھے دوزخ سے پرے دُھتکار دیں
کاش بالوں کے سفید ہونے سے پہلے
سانپوں کی بجائے پرندوں سے دوستی کر لیتا
میں عقل کا اندھا حقیقت کی تلاش میں خاک چھانتا رہا
اور خاک سے نکلی اتنی بڑی حقیقت نہ دیکھ سکا
درختوں کی پارسائی عالمگیری سچائی ہے کہ
خدا کو جھٹلانے والا بھی ان سے محبت کو ثواب سمجھتا ہے
کاش مرنے کے بعد کوئی میری لاش برگد کے تنے میں گاڑ دے
اس کے بعد مجھے لوگ درخت کہیں
انسان کہے نہ کوئی
عمران فیروز
No comments:
Post a Comment