Showing posts with label نواز کمال. Show all posts
Showing posts with label نواز کمال. Show all posts

Friday, 13 March 2026

اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں

 اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں

کسی آنکھ اگر نم نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ آندھیاں یہ خرمنوں پہ بجلیوں کی لپک

مزاجِ یار جو برہم نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ الجھنیں یہ مصائب، یہ غم و رنج و الم

تیرے گیسو کا اگر خم نہیں تو کچھ بھی نہیں

Friday, 24 December 2021

آپ کے دم سے جوانی پر برستا ہے شباب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 آپ کے دم سے جوانی پر برستا ہے شباب

وجہِ بوئے مشک و عنبر، باعثِ حسنِ گلاب

عقلِ کُل بھی آپ ہیں ختم الرسلؐ بھی آپ ہیں

اے نبیﷺ اُمی لقب، اے صاحبِ ام الکتاب

آپﷺ ہی ابرِ سخا ہیں آپ ہی بحرِ کرم

ورنہ ہر پل تشنگی ہے چار سو ریگ و سراب

Saturday, 25 September 2021

کون کہتا ہے کہ ظلمت میں ضیا تقسیم کر

 کون کہتا ہے کہ ظُلمت میں ضیا تقسیم کر

عرض یہ ہے؛ تیرگی کو تیرگی تسلیم کر

لاشۂ خورشید پر نوحہ گری کس کام کی

شب کے ہاتھوں جو نہ ہارے وہ سحر تجسیم کر

اپنے حصے کا اُجالا بانٹتا ہے کو بہ کو

کرمکِ شب تاب کی مہتاب سی تکریم کر

Saturday, 3 April 2021

شعلے سے ملے گا نہ شرارے سے ملے گا

 شعلے سے ملے گا نہ شرارے سے ملے گا

رستہ تو چمکتے ہوئے تارے سے ملے گا

روتے ہوئے لب پر کوئی مسکان سجانا

یہ گُر تو کسی درد کے مارے سے ملے گا

پانی بھی پھرے گا کبھی شعلے کی طلب میں

میٹھا بھی کسی موڑ پہ کھارے سے ملے گا