اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں
کسی آنکھ اگر نم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ آندھیاں یہ خرمنوں پہ بجلیوں کی لپک
مزاجِ یار جو برہم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ الجھنیں یہ مصائب، یہ غم و رنج و الم
تیرے گیسو کا اگر خم نہیں تو کچھ بھی نہیں
اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں
کسی آنکھ اگر نم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ آندھیاں یہ خرمنوں پہ بجلیوں کی لپک
مزاجِ یار جو برہم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ الجھنیں یہ مصائب، یہ غم و رنج و الم
تیرے گیسو کا اگر خم نہیں تو کچھ بھی نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپ کے دم سے جوانی پر برستا ہے شباب
وجہِ بوئے مشک و عنبر، باعثِ حسنِ گلاب
عقلِ کُل بھی آپ ہیں ختم الرسلؐ بھی آپ ہیں
اے نبیﷺ اُمی لقب، اے صاحبِ ام الکتاب
آپﷺ ہی ابرِ سخا ہیں آپ ہی بحرِ کرم
ورنہ ہر پل تشنگی ہے چار سو ریگ و سراب
کون کہتا ہے کہ ظُلمت میں ضیا تقسیم کر
عرض یہ ہے؛ تیرگی کو تیرگی تسلیم کر
لاشۂ خورشید پر نوحہ گری کس کام کی
شب کے ہاتھوں جو نہ ہارے وہ سحر تجسیم کر
اپنے حصے کا اُجالا بانٹتا ہے کو بہ کو
کرمکِ شب تاب کی مہتاب سی تکریم کر
شعلے سے ملے گا نہ شرارے سے ملے گا
رستہ تو چمکتے ہوئے تارے سے ملے گا
روتے ہوئے لب پر کوئی مسکان سجانا
یہ گُر تو کسی درد کے مارے سے ملے گا
پانی بھی پھرے گا کبھی شعلے کی طلب میں
میٹھا بھی کسی موڑ پہ کھارے سے ملے گا