Saturday, 3 April 2021

شعلے سے ملے گا نہ شرارے سے ملے گا

 شعلے سے ملے گا نہ شرارے سے ملے گا

رستہ تو چمکتے ہوئے تارے سے ملے گا

روتے ہوئے لب پر کوئی مسکان سجانا

یہ گُر تو کسی درد کے مارے سے ملے گا

پانی بھی پھرے گا کبھی شعلے کی طلب میں

میٹھا بھی کسی موڑ پہ کھارے سے ملے گا

یہ اشک یہ میٹھی سی چبھن دل شکنی کی

یہ نفع محبت میں خسارے سے ملے گا

زحمت نہ اٹھا بول کی، بے بول بتا دے

سب کچھ تِرے ابرو کے اشارے سے ملے گا

اک دن مِری سسکی بھی تبسم میں ڈھلے گی

یہ دشت بھی دریا کے کنارے سے ملے گا


نواز کمال

No comments:

Post a Comment