شعلے سے ملے گا نہ شرارے سے ملے گا
رستہ تو چمکتے ہوئے تارے سے ملے گا
روتے ہوئے لب پر کوئی مسکان سجانا
یہ گُر تو کسی درد کے مارے سے ملے گا
پانی بھی پھرے گا کبھی شعلے کی طلب میں
میٹھا بھی کسی موڑ پہ کھارے سے ملے گا
یہ اشک یہ میٹھی سی چبھن دل شکنی کی
یہ نفع محبت میں خسارے سے ملے گا
زحمت نہ اٹھا بول کی، بے بول بتا دے
سب کچھ تِرے ابرو کے اشارے سے ملے گا
اک دن مِری سسکی بھی تبسم میں ڈھلے گی
یہ دشت بھی دریا کے کنارے سے ملے گا
نواز کمال
No comments:
Post a Comment