زعفرانی غزل
کیا ہے اچھا اور کیا اچھا نہیں
میرے کہنے سے تو کچھ ہوتا نہیں
سچ تو ہے آپ اب کچھ بھی کہیں
آپ نے سچ تو کبھی بولا نہیں
اس کی پیشانی پہ سب تحریر تھا
اس لیے نام و نسب پوچھا نہیں
زعفرانی غزل
کیا ہے اچھا اور کیا اچھا نہیں
میرے کہنے سے تو کچھ ہوتا نہیں
سچ تو ہے آپ اب کچھ بھی کہیں
آپ نے سچ تو کبھی بولا نہیں
اس کی پیشانی پہ سب تحریر تھا
اس لیے نام و نسب پوچھا نہیں
سنا ہے اس کو بہت سے اُچکے دیکھتے ہیں
سو ہم بھی دامنِ تقویٰ جھٹک کے دیکھتے ہیں
سنا ہے وہ تو بھڑکتا ہے بات کرنے سے
سو پیار اس پہ ذرا سا چھڑک کے دیکھتے ہیں
نظر میں اس کی کھٹکتے ہیں چاہنے والے
سو اس کی آنکھوں میں ہم بھی کھٹک کے دیکھتے ہیں
نہ بیگم ہماری نہ ہم دیکھتے ہیں
بڑھاپے میں دونوں ہی کم دیکھتے ہیں
سنا یہ ہے حجرے میں چلتی ہیں چلمیں
بھرا کیا ہے پی کر چلم دیکھتے ہیں
یہ سارے ہیں بندر سو بندر بچا کر
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
گھر میں ہوا تھا کیا کیا، یہ عرض پھر کروں گا
پھر عرض کیا کروں گا، یہ عرض پھر کروں گا
دو لخت گر نہ ہوتے، پھر کیسے حصہ ملتا
کس کو ملا تھا حصہ، یہ عرض پھر کروں گا
جب تک رہے گا رسہ، رسہ کشی رہے گی
کب تک رہے گا رسہ، یہ عرض پھر کروں گا
ذرا سی چھیڑ خانی چاہتے ہیں
محبت درمیانی چاہتے ہیں
عزیزانِ گرامی سے یہ کہہ دو
کہ اب تو مہربانی چاہتے ہیں
اُکھاڑے میں چلو اہلِ زباں کے
لڑائی منہ زبانی چاہتے ہیں
بہ مجبوری ہر اک رنج و محن لکھنا پڑا مجھ کو
بنا کر خود کو موضوعِ سخن، لکھنا پڑا مجھ کو
زبانیں جن کی قینچی کی طرح چلتی تھیں شوہر پر
انہیں شیریں زباں، شیریں دہن لکھنا پڑا مجھ کو
ہر اک محفل میں جلووں کی جو رشوت پیش کرتی تھیں
وہ جیسی بھی تھیں، "جان انجمن" لکھنا پڑا مجھ کو
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
دہقان تو مرکھپ گیا، اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم، کہ جلاؤں
شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا 🦅
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں
اک چھوڑو ہو اک اور جو مسمات کرو ہو
ہر سال یہ کیا قبلۂ حاجات کرو ہو؟
سمجھو ہو کہاں اوروں کو تم اپنے برابر
بس منہ سے مساوات مساوات کرو ہو
کیا حسن کی دولت بھی کبھی بانٹو ہو صاحب
سننے میں تو آیا ہے کہ خیرات کرو ہو