Showing posts with label امیر الاسلام ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label امیر الاسلام ہاشمی. Show all posts

Saturday, 6 January 2024

کیا ہے اچھا اور کیا اچھا نہیں

 زعفرانی غزل


کیا ہے اچھا اور کیا اچھا نہیں

میرے کہنے سے تو کچھ ہوتا نہیں

سچ تو ہے آپ اب کچھ بھی کہیں

آپ نے سچ تو کبھی بولا نہیں

اس کی پیشانی پہ سب تحریر تھا

اس لیے نام و نسب پوچھا نہیں

Friday, 11 February 2022

سنا ہے اس کو بہت سے اچکے دیکھتے ہیں

 سنا ہے اس کو بہت سے اُچکے دیکھتے ہیں

سو ہم بھی دامنِ تقویٰ جھٹک کے دیکھتے ہیں

سنا ہے وہ تو بھڑکتا ہے بات کرنے سے

سو پیار اس پہ ذرا سا چھڑک کے دیکھتے ہیں

نظر میں اس کی کھٹکتے ہیں چاہنے والے

سو اس کی آنکھوں میں ہم بھی کھٹک کے دیکھتے ہیں

Wednesday, 2 February 2022

نہ بیگم ہماری نہ ہم دیکھتے ہیں

 نہ بیگم ہماری نہ ہم دیکھتے ہیں

بڑھاپے میں دونوں ہی کم دیکھتے ہیں

سنا یہ ہے حجرے میں چلتی ہیں چلمیں

بھرا کیا ہے پی کر چلم دیکھتے ہیں

یہ سارے ہیں بندر سو بندر بچا کر

تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

Monday, 31 January 2022

گھر میں ہوا تھا کیا کیا یہ عرض پھر کروں گا

 گھر میں ہوا تھا کیا کیا، یہ عرض پھر کروں گا

پھر عرض کیا کروں گا، یہ عرض پھر کروں گا

دو لخت گر نہ ہوتے، پھر کیسے حصہ ملتا

کس کو ملا تھا حصہ، یہ عرض پھر کروں گا

جب تک رہے گا رسہ، رسہ کشی رہے گی

کب تک رہے گا رسہ، یہ عرض پھر کروں گا

Tuesday, 25 January 2022

ذرا سی چھیڑ خانی چاہتے ہیں

ذرا سی چھیڑ خانی چاہتے ہیں

محبت درمیانی چاہتے ہیں

عزیزانِ گرامی سے یہ کہہ دو

کہ اب تو مہربانی چاہتے ہیں

اُکھاڑے میں چلو اہلِ زباں کے

لڑائی منہ زبانی چاہتے ہیں

Thursday, 30 December 2021

بہ مجبوری ہر اک رنج و محن لکھنا پڑا مجھ کو

بہ مجبوری ہر اک رنج و محن لکھنا پڑا مجھ کو

بنا کر خود کو موضوعِ سخن، لکھنا پڑا مجھ کو

زبانیں جن کی قینچی کی طرح چلتی تھیں شوہر پر

انہیں شیریں زباں، شیریں دہن لکھنا پڑا مجھ کو

ہر اک محفل میں جلووں کی جو رشوت پیش کرتی تھیں

وہ جیسی بھی تھیں، "جان انجمن" لکھنا پڑا مجھ کو

Wednesday, 29 December 2021

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں


اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

 دہقان تو مرکھپ گیا، اب کس کو جگاؤں

ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم، کہ جلاؤں

شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا 🦅

کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں

Tuesday, 28 December 2021

اک چھوڑو ہو اک اور جو مسمات کرو ہو

 اک چھوڑو ہو اک اور جو مسمات کرو ہو

ہر سال یہ کیا قبلۂ حاجات کرو ہو؟

سمجھو ہو کہاں اوروں کو تم اپنے برابر

بس منہ سے مساوات مساوات کرو ہو

کیا حسن کی دولت بھی کبھی بانٹو ہو صاحب

سننے میں تو آیا ہے کہ خیرات کرو ہو