Wednesday, 2 February 2022

نہ بیگم ہماری نہ ہم دیکھتے ہیں

 نہ بیگم ہماری نہ ہم دیکھتے ہیں

بڑھاپے میں دونوں ہی کم دیکھتے ہیں

سنا یہ ہے حجرے میں چلتی ہیں چلمیں

بھرا کیا ہے پی کر چلم دیکھتے ہیں

یہ سارے ہیں بندر سو بندر بچا کر

تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

ستم یہ ہے دونوں ہی اہلِ نظر ہیں

نہ وہ دیکھتے ہیں، نہ ہم دیکھتے ہیں

ہم اہلِ قلم کی لگائیں گے قلمیں

قلم میں لگا کر قلم دیکھتے ہیں

تھا جو کچھ یہاں پر وہ سب کھا چکے ہیں

چلو اب عراق و عجم دیکھتے ہیں

قسم جھوٹی کھانے کو دل ہو رہا ہے

حسینوں کی کھا کر قسم دیکھتے ہیں

حیا ہو چکی اب نظر تو اٹھاؤ

ہمیں تم بھی دیکھو کہ ہم دیکھتے ہیں

اب اہلِ کرم کی یہ حالت ہے یارو

ہمارا وہ کریا کرم دیکھتے ہیں

اٹھا کر، بٹھا کر ، کلب میں نچا کر

حیا نازنینوں کی ہم دیکھتے ہیں


امیر الاسلام ہاشمی

No comments:

Post a Comment