فقیر زادی
میں اپنا سب کچھ لُٹا چکا ہوں
میں تیرے کاسے پہ اپنا کاسا
اُلٹ کے دُنیا بنا چکا ہوں
فقیر زادی
میں آج تک جس ادھُورے پن کی مسافتوں میں
سیاہ سنگلاخ راستوں پر
فقیر زادی
میں اپنا سب کچھ لُٹا چکا ہوں
میں تیرے کاسے پہ اپنا کاسا
اُلٹ کے دُنیا بنا چکا ہوں
فقیر زادی
میں آج تک جس ادھُورے پن کی مسافتوں میں
سیاہ سنگلاخ راستوں پر
کوئی سن رہا ہو تو اس کو سناؤں
کہ ایک دن زمین خود میں مدفون لاشیں اگلنے لگے گی
یہ مدفون لاشیں جو اب شے سے لاشے ہوئے جا رہیں ہیں
یہ کیا سوچتے ہیں
یہ کیا سوچتے ہیں، یہ کیا جانتے ہیں
انہیں فکر ہے یا نہیں ہے کہ
عجب سفر ہے
میں اپنی مُٹھی سے ریت بن کر پھسل رہا ہوں
وہ ریت دامن میں بھر رہی ہے
میں تھوڑا مُٹھی میں رہ گیا ہوں
میں تھوڑا دامن میں گِر چکا ہوں
میں باقی دونوں کے درمیاں ہوں
ادہمیہ
شہزادگانِ شاہ بلخ میں ایک مجذوب ہے
جو کئی صدیاں بیت جانے کے بعد
آج پھر
شاہزادی کی قبر کھودنے میں مصروف ہے
شاہزادی پھر مر گئی ہے
وحشت کے کارخانے سے تازہ غزل نکال
اے صبر کے درخت مِرا میٹھا پھل نکال
کاغذ کے پیراہن میں بدن پھول جیسا رکھ
کیچڑ سے اپنی آنکھوں کی چہرہ کنول نکال
میں سیدھا راستہ ہوں تو مڑ جا مِری طرف
گمبھیر مسئلہ ہوں تو سادہ سا حل نکال
تیرگی طاق میں جڑی ہوئی ہے
دھوپ دہلیز پر پڑی ہوئی ہے
دل پہ ناکامیوں کے ہیں پیوند
آس کی سوئی بھی گڑی ہوئی ہے
میرے جیسی ہے میری پرچھائیں
دھوپ میں پل کے یہ بڑی ہوئی ہے
تخیل کو بری کرنے لگا ہوں
میں ذہنی خود کشی کرنے لگا ہوں
مجھے زندہ جلایا جا رہا ہے
تو کیا میں روشنی کرنے لگا ہوں
میں آئینوں کو دیکھے جا رہا تھا
اب ان سے بات بھی کرنے لگا ہوں
جاؤ، ماتم گزارو! جانے دو
جس کا غم ہے اسے منانے دو
بیچ سے ایک داستاں ٹوٹی
اور پھر بن گئے فسانے دو
ہم فقیروں کو کچھ تو دو صاحب
کچھ نہیں دے سکو تو طعنے دو
لاعنوان
صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں
آج نظم نہیں لکھتے
ورنہ شام ہو جائے گی
اور کسی کو اپنا منتظر نہ پا کر
بوٹوں سمیت کرسی پر بیٹھ جائے گی
وہ پیکرِِ جمال ہے، کمال ہے
وہ حسن بے مثال ہے، کمال ہے
وہ پوچھتے ہیں آپ کیوں بدل گئے
یہی مِرا سوال ہے، کمال ہے
مجھے حرام ہے شراب کا نشہ
تمہیں لہو حلال ہے، کمال ہے