Showing posts with label عمار اقبال. Show all posts
Showing posts with label عمار اقبال. Show all posts

Thursday, 30 March 2023

فقیر زادی میں اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں

فقیر زادی


میں اپنا سب کچھ لُٹا چکا ہوں

میں تیرے کاسے پہ اپنا کاسا

اُلٹ کے دُنیا بنا چکا ہوں

 فقیر زادی

میں آج تک جس ادھُورے پن کی مسافتوں میں

سیاہ سنگلاخ راستوں پر

Monday, 13 February 2023

کوئی سن رہا ہو تو اس کو سناؤں

 کوئی سن رہا ہو تو اس کو سناؤں

کہ ایک دن زمین خود میں مدفون لاشیں اگلنے لگے گی

یہ مدفون لاشیں جو اب شے سے لاشے ہوئے جا رہیں ہیں

یہ کیا سوچتے ہیں

یہ کیا سوچتے ہیں، یہ کیا جانتے ہیں

انہیں فکر ہے یا نہیں ہے کہ 

Tuesday, 3 May 2022

عجب سفر ہے

عجب سفر ہے


میں اپنی مُٹھی سے ریت بن کر پھسل رہا ہوں

وہ ریت دامن میں بھر رہی ہے

میں تھوڑا مُٹھی میں رہ گیا ہوں 

میں تھوڑا دامن میں گِر چکا ہوں

میں باقی دونوں کے درمیاں ہوں

Thursday, 14 April 2022

شہزادگان شاہ بلخ میں ایک مجذوب ہے

 ادہمیہ


شہزادگانِ شاہ بلخ میں ایک مجذوب ہے

جو کئی صدیاں بیت جانے کے بعد

آج پھر

شاہزادی کی قبر کھودنے میں مصروف ہے

شاہزادی پھر مر گئی ہے

Monday, 28 March 2022

وحشت کے کارخانے سے تازہ غزل نکال

 وحشت کے کارخانے سے تازہ غزل نکال

اے صبر کے درخت مِرا میٹھا پھل نکال

کاغذ کے پیراہن میں بدن پھول جیسا رکھ 

کیچڑ سے اپنی آنکھوں کی چہرہ کنول نکال 

میں سیدھا راستہ ہوں تو مڑ جا مِری طرف 

گمبھیر  مسئلہ ہوں تو سادہ سا حل نکال

Saturday, 27 February 2021

تیرگی طاق میں جڑی ہوئی ہے

 تیرگی طاق میں جڑی ہوئی ہے

دھوپ دہلیز پر پڑی ہوئی ہے

دل پہ ناکامیوں کے ہیں پیوند

آس کی سوئی بھی گڑی ہوئی ہے

میرے جیسی ہے میری پرچھائیں

دھوپ میں پل کے یہ بڑی ہوئی ہے

Thursday, 25 February 2021

تخیل کو بری کرنے لگا ہوں

 تخیل کو بری کرنے لگا ہوں

میں ذہنی خود کشی کرنے لگا ہوں

مجھے زندہ جلایا جا رہا ہے

تو کیا میں روشنی کرنے لگا ہوں

میں آئینوں کو دیکھے جا رہا تھا

اب ان سے بات بھی کرنے لگا ہوں

Saturday, 31 October 2020

جس کا غم ہے اسے منانے دو

 جاؤ، ماتم گزارو! جانے دو

جس کا غم ہے اسے منانے دو

بیچ سے ایک داستاں ٹوٹی

اور پھر بن گئے فسانے دو

ہم فقیروں کو کچھ تو دو صاحب

کچھ نہیں دے سکو تو طعنے دو

Wednesday, 14 October 2020

صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں

 لاعنوان


صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں

آج نظم نہیں لکھتے

ورنہ شام ہو جائے گی

اور کسی کو اپنا منتظر نہ پا کر

بوٹوں سمیت کرسی پر بیٹھ جائے گی

Friday, 25 September 2020

وہ پیکرِ جمال ہے کمال ہے

 وہ پیکرِِ جمال ہے، کمال ہے

وہ حسن بے مثال ہے، کمال ہے

وہ پوچھتے ہیں آپ کیوں بدل گئے

یہی مِرا سوال ہے، کمال ہے

مجھے حرام ہے شراب کا نشہ

تمہیں لہو حلال ہے، کمال ہے

Thursday, 16 July 2020

حکمت عملی

حکمتِ عملی

ابرہا آ گیا
پھر سے اک شہر میں ابرہا آ گیا
جاؤ تم جا کے ہاتھی گِنو
اور تم جا کے کنکر چُنو
اور تم بھی سُنو
حسبِ توفیق کانوں میں بھُوسا بھرو

جنتی عورتوں سے تو میرا علاقہ نہیں

جنتی عورتیں
جنتی عورتوں سے تو میرا علاقہ نہیں
جنتی عورتو
اپنی جنت میں آباد ہو
شاد ہو؟
اپنے صیاد کو یاد ہو؟

یاد ماضی بہا دل پہ چیرا لگا

یادِ ماضی بہا
دل پہ چِیرا لگا
تیرا سایا ہوں میں
تیرگی میں نہ جا
مجھ پہ آسان ہو
میرے مشکل کشا

Thursday, 30 January 2020

ڈیڑھ کمرے کی ایک دنیا میں

صورت حال

ڈیڑھ کمرے کی ایک دنیا میں
ایک بستر ہے، کچھ کتابیں ہیں
آنے جانے کا ایک دروازہ
خیر آتا بھی کون ہے گھر میں؟
نام لیوا رفاقتوں کے امیں

جو بچی ہے گزار دوں اچھا

جو بچی ہے گزار دوں؟ اچھا
زندگی تجھ پہ وار دوں؟ اچھا
اور تو کچھ نہیں ہے میرے پاس
خواب ہیں، مستعار دوں؟ اچھا
آزما لوں تجھے وفا پیکر
تجھ کو راہِ فرار دوں؟ اچھا

چپ رہ کر اچھا کرتا ہوں

سناٹے برپا کرتا ہوں
چپ رہ کر اچھا کرتا ہوں
تم کیا چاہتی ہو؟ تم سوچو
پھر دیکھو میں کیا کرتا ہوں
ایک نام کا وِرد پکڑ کے
پانی پر ٹِہلا کرتا ہوں

جیب میں آسمان رکھتا ہوں

ٹوٹی پھوٹی کمان رکھتا ہوں
پھر بھی سینے کو تان رکھتا ہوں
ایک بستر کے بس کی بات نہیں
مدتوں کی تھکان رکھتا ہوں
تا کہ مجھ کو وہ سوچتی ہی رہے
میں اسے بد گمان رکھتا ہوں

Thursday, 24 January 2019

رنگ و رس کی ہوس اور بس

رنگ و رس کی ہوس اور بس
مسئلہ دسترس اور بس
یوں بُنی ہیں رگیں جسم کی
ایک نس ٹس سے مس اور بس
سب تماشائے کُن ختم شُد
کہہ دیا اس نے بس اور بس

مرتبہ تھا مقام تھا میرا

مرتبہ تھا مقام تھا میرا
روشنی پر قیام تھا میرا
میں نے سب کو معاف کر دیا تھا
اور یہ انتقام تھا میرا
آخری وقت آنکھ کھل گئی تھی
ورنہ قصہ تمام تھا میرا

Saturday, 22 April 2017

تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو

تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو
ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا
تم پرندے ہو وطن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم سے باتوں میں کچھ اس درجہ مگن ہوتا ہوں 
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو