ادہمیہ
شہزادگانِ شاہ بلخ میں ایک مجذوب ہے
جو کئی صدیاں بیت جانے کے بعد
آج پھر
شاہزادی کی قبر کھودنے میں مصروف ہے
شاہزادی پھر مر گئی ہے
نہیں
شاہزادی کو مار دیا گیا ہے
کہ اس کا مول
کوئی انمول موتی کیسے ہو سکتا تھا
خدا کے رہتے
بھلا اس کے پہلو میں
اور کون سو سکتا تھا
کہ جس پر نظر اس کی ہو
جو لاڈلہ تھا اپنے رب کا
سب کا
اور زندہ تھا اس کے نام پہ
کرتا چلا جاتا تھا سجدے
گام گام پہ
شاہزادگانِ شاہِ بلخ میں ایک مجزوب
نکال لیتا تھا
موتی دریا کے سینے سے
اور چھین لیتا تھا زندگی
موت کے منہ سے
پھونک لیتا تھا سانسیں
اس بدن میں
جس پر مردگی کا پردہ تھا
کئی صدیاں بیت جانے کے بعد
آج پھر خدا کا قاصد
اپنے اونٹ تلاشتا
اس کی چھت پر اترنا چاہتا ہے
مگر گزشتہ صدیوں نے
چھتوں کو اتنا کمزور کر دیا ہے
کہ وہ اونٹوں اور قاصدوں کا بوجھ
نہیں اٹھا سکتیں
اور لرز اٹھتی ہیں
اور زلزلہ آتا ہے
اور قبر پھٹتی ہے
اور شاہزادی اٹھنے سے انکار کر دیتی ہے
شاہزادگان شاہ بلخ میں وہ مجزوب
جس سرائے کا قیدی ہے
اس میں موجود ہر ذی روح
گرفتار ہے
درودیوار کی محبت میں
مگر شکر گزار ہے
اس قیدِ بامشقت میں
جنگلوں سے دور
محفوظ دیواروں کے درمیان
قیدی اور شاہزادگان
ایک مجزوب پر حیران ہوتے ہیں
جب اسے شکار پے جاتا دیکھتے ہیں
کہ وہ جنگلوں میں
شکار کرنے کو
بھیڑیا بن جاتا ہے
کئی صدیوں کی گزشتگی نے
بھیڑیوں کو کتا کر دیا ہے
اور کتے غزل نہیں سمجھتے
اب کوئی غزال ان سے بات نہیں کرتا
انہیں کوئی زبان نہیں آتی
اور اگر انہیں بتا بھی دیا جائے
کہ وہ شکاری نہیں ہیں
تو وہ پلٹتے نہیں
بلکہ اپنے پنجوں سے
زمین کا وہ حصہ
کھودنے میں مصروف ہو جاتے ہیں
جہاں کوئی دفن نہیں ہوتا
عمار اقبال
No comments:
Post a Comment