بات نکلی نظر سے آگے تک
چوٹ پہنچی جگر سے آگے تک
اور بھی اک جہان ہے دیکھو
گھر کے دیوار و در سے آگے تک
عشق گر ہے تو دیکھ سکتی ہے
آنکھ شمس و قمر سے آگے تک
سچ پوچھو تو کچھ نہیں یار
اس محبت نگر سے آگے تک
لے گیا حوصلوں کا شہزادہ
میری کشتی بھنور سے آگے تک
آج گلیوں میں دیکھتا ہوں امین
زیست سہمی سی ڈر سےآگے تک
امین اوڈیرائی
No comments:
Post a Comment