Thursday, 14 April 2022

بات نکلی نظر سے آگے تک

 بات نکلی نظر سے آگے تک

چوٹ پہنچی جگر سے آگے تک

اور بھی اک جہان ہے دیکھو

گھر کے دیوار و در سے آگے تک

عشق گر ہے تو دیکھ سکتی ہے

آنکھ شمس و قمر سے آگے تک

سچ پوچھو تو کچھ نہیں یار

اس محبت نگر سے آگے تک

لے گیا حوصلوں کا شہزادہ

میری کشتی بھنور سے آگے تک

آج گلیوں میں دیکھتا ہوں امین

زیست سہمی سی ڈر سےآگے تک


امین اوڈیرائی

No comments:

Post a Comment