Thursday, 14 April 2022

ہم ترستے ہیں عمدہ کھانوں کو

 ہم ترستے ہیں عمدہ کھانوں کو

موت پڑتی ہے حکمرانوں کو

جرم آزاد پھر رہا ہے یہاں

بے کسوں سے بھریں یہ تھانوں کو

چھپ کے بیٹھے گا تُو کہاں ہم سے

جانتے ہیں تِرے ٹھکانوں کو

سر پہ رکھتے ہیں ہم زمیں لیکن

زیرِ پا اپنے، آسمانوں کو

آئے دن ان کے بیچ دنگل ہے

دیکھو گتّے کے پہلوانوں کو

کیا یہ کم ہے کہ بولنے کو زباں

مل گئی ہم سے بے زبانوں کو

یہ ہی دھرتی کا سینہ چاک کریں

اور روٹی نہیں کسانوں کو

اک نیا مسئلہ ہؤا درپیش

پھر سے صحرا کے اُونٹ بانوں کو 

چار سُو سر پِھری ہوا کا راج

تہ نہیں رکھنا بادبانوں کو

کر کے وعدہ جو کل نہیں آیا

بِیچ لائے گا پِھر بہانوں کو 

ہم نے تھوڑا قلم جہاد کِیا 

یاد رکھنا ہے ان ترانوں کو

حسنِ اخلاص اور روا داری

آؤ ڈھونڈیں پھر ان خزانوں کو

روزے رکھنا تو فرض سب پر ہے

ہم مگر سونپ دیں پٹھانوں کو 

موت بھی یوں ہماری گھات میں ہے

صید چُگتا ہے جیسے دانوں کو

زندگی قید میں گزاری ہے

بھول بیٹھے ہیں اب اُڑانوں کو

ہم نے سیکھا ہے آہ بھرنا بس

یاد کر کے گئے زمانوں کو

اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے

اک کہانی کئی فسانوں کو

اتنے مجبور تھے گِرانی سے

بیچ آئے ہیں سائبانوں کو

اس کو زلفیں بکھیرنا تو تھیں

شان بخشی ہمارے شانوں کو   

سچ کو سچ سے رشید ماپیں گے

وہ بھلے تان لیں کمانوں کو


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment