یقین اپنی جگہ اور گمان اپنی جگہ
تِرا خیال کہیں درمیان اپنی جگہ
کوئی دھواں کوئی بادل سمجھ رہا ہے اسے
تنا ہے سر پہ مگر آسمان اپنی جگہ
کسے خبر کہ مِرا اصل تو فقیری ہے
وہ دیکھتے ہیں مِری آن بان اپنی جگہ
جو ہو کے تیشہ بکف آئے تھے چلے بھی گئے
کھڑی ہوں اب بھی میں بن کر چٹان اپنی جگہ
کسی مکیں کا بہت انتظار کرتے ہیں
مکان اپنی جگہ لا مکان اپنی جگہ
سفر میں اپنی جگہ ہیں اہم سبھی عظمیٰ
یہ دھوپ اپنی جگہ سائبان اپنی جگہ
عظمیٰ محمود
No comments:
Post a Comment