مجھے یقین ہے
یہ زمین رہے گی
اگر میری ہڈیوں میں کہیں نہیں
تو یہ رہے گی جیسے درخت کے تنے میں رہتے ہیں
دِیمک
جیسے دانے میں رہتا ہے گُھن
مجھے یقین ہے
یہ زمین رہے گی
اگر میری ہڈیوں میں کہیں نہیں
تو یہ رہے گی جیسے درخت کے تنے میں رہتے ہیں
دِیمک
جیسے دانے میں رہتا ہے گُھن
باگھ
دونوں کے درمیان
عجیب و غریب رشتہ تھا
ایک طرف بھوک تھی
دوسری طرف درد ہی درد
دونوں کے درمیان
کوئی پل نہیں تھا
ہاتھ
اُس کا ہاتھ
اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے میں نے سوچا
دُنیا کو
ہاتھ کی طرح گرم اور سُندر ہونا چاہیے
کیدار ناتھ سنگھ
شہر میں رات
بجلی چمکی، پانی گرنے کا ڈر ہے
وہ کیوں بھاگے جاتے ہیں جن کے گھر ہیں
وہ کیوں چپ ہیں جن کو آتی ہے بھاشا
وہ کیا ہے جو دکھتا ہے دھواں دھواں سا
وہ کیا ہے ہرا ہرا سا جس کے آگے
ہیں الجھ گئے جینے کے سارے دھاگے