Showing posts with label کیدار ناتھ سنگھ. Show all posts
Showing posts with label کیدار ناتھ سنگھ. Show all posts

Wednesday, 4 March 2026

مجھے یقین ہے یہ زمین رہے گی

 مجھے یقین ہے

یہ زمین رہے گی

اگر میری ہڈیوں میں کہیں نہیں

تو یہ رہے گی جیسے درخت کے تنے میں رہتے ہیں

دِیمک

جیسے دانے میں رہتا ہے گُھن

Saturday, 20 July 2024

دونوں کے درمیان عجیب و غریب رشتہ تھا

 باگھ


دونوں کے درمیان

عجیب و غریب رشتہ تھا

ایک طرف بھوک تھی

دوسری طرف درد ہی درد

دونوں کے درمیان

کوئی پل نہیں تھا

Thursday, 27 June 2024

دنیا کو ہاتھ کی طرح گرم اور سندر ہونا چاہیے

 ہاتھ


اُس کا ہاتھ

اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے میں نے سوچا

دُنیا کو

ہاتھ کی طرح گرم اور سُندر ہونا چاہیے


کیدار ناتھ سنگھ

Wednesday, 26 June 2024

شہر میں رات بجلی چمکی پانی گرنے کا ڈر ہے

 شہر میں رات


بجلی چمکی، پانی گرنے کا ڈر ہے

وہ کیوں بھاگے جاتے ہیں جن کے گھر ہیں

وہ کیوں چپ ہیں جن کو آتی ہے بھاشا

وہ کیا ہے جو دکھتا ہے دھواں دھواں سا

وہ کیا ہے ہرا ہرا سا جس کے آگے

ہیں الجھ گئے جینے کے سارے دھاگے