Wednesday, 4 March 2026

مجھے یقین ہے یہ زمین رہے گی

 مجھے یقین ہے

یہ زمین رہے گی

اگر میری ہڈیوں میں کہیں نہیں

تو یہ رہے گی جیسے درخت کے تنے میں رہتے ہیں

دِیمک

جیسے دانے میں رہتا ہے گُھن

یہ قیامت کے بعد بھی رہے گا میرے اندر

اگر اور کہیں نہیں تو میری زبان

اور میرے فنا ہونے کے احساس میں

موجود رہے گا یہ

اور ایک صبح میں اٹھوں گا

اٹھوں گا زمین کو ساتھ لیے

پانی کو ساتھ لیے اٹھوں گا میں

میں اٹھ کر اس سے ملنے جاؤں گا

جس سے وعدہ کیا ہے کہ ملاقات ہو گی


کیدار ناتھ سنگھ

No comments:

Post a Comment