مجھے یقین ہے
یہ زمین رہے گی
اگر میری ہڈیوں میں کہیں نہیں
تو یہ رہے گی جیسے درخت کے تنے میں رہتے ہیں
دِیمک
جیسے دانے میں رہتا ہے گُھن
یہ قیامت کے بعد بھی رہے گا میرے اندر
اگر اور کہیں نہیں تو میری زبان
اور میرے فنا ہونے کے احساس میں
موجود رہے گا یہ
اور ایک صبح میں اٹھوں گا
اٹھوں گا زمین کو ساتھ لیے
پانی کو ساتھ لیے اٹھوں گا میں
میں اٹھ کر اس سے ملنے جاؤں گا
جس سے وعدہ کیا ہے کہ ملاقات ہو گی
کیدار ناتھ سنگھ
No comments:
Post a Comment