Wednesday, 4 March 2026

نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے

 نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے کیوں تھے

انہیں تھا منظور مجھ سے پردہ تو سامنے میرے آئے کیوں تھے

دیارِ حسنِ وفا طلب کی طرف قدم ہی اٹھائے کیوں تھے

جنوں کو الزام دینے والے جنوں کی باتوں میں آئے کیوں تھے

اسی خطا کی سزا میں اب تک نشانِ منزل نہیں ملا ہے

رہِ محبت میں اول اول مرے قدم ڈگمگائے کیوں تھے

وہ آفتابِ جمال شاید یہیں کہیں سے گزر رہا ہے

جہانِ دل کے تمام ذرے ابھی ابھی جگمگائے کیوں تھے

نفس نفس صد خلش بد اعمال قدم قدم پر ہزار طوفاں

میں اب یہ سمجھا کہ روزِ اول وہ دیکھ کر مسکرائے کیوں تھے

انہیں جو اب کیف سے ہے شکوہ کہ نظمِ عالم بگاڑ ڈالا

وہ ایسے دیوانے کو بھلا اس خرد کی دنیا میں لائے کیوں تھے

 

کیف مرادآبادی

No comments:

Post a Comment