معصوم دیکھنا نہ گنہگار دیکھنا
اس کو بس اپنی برشِ تلوار دیکھنا
اک دن مآلِ دیدۂ بیدار دیکھنا
سردار ہم ہیں، ہم کو سرِ دار دیکھنا
چل جائے کوئی چال نہ عیار دیکھنا
اے اہلِ درد! وقت کی رفتار دیکھنا
کہتا ہے کچھ، ہے مقصدِ گفتار اور کچھ
اس شوخ کا طریقۂ گفتار دیکھنا
یہ مدعئ تقویٰ و تقدیس الاماں
چہروں کو ان کے بر سرِ دربار دیکھنا
حیراں ہوں اے نعیم! کہ حکامِ وقت کو
کب آئے گا نوشتۂ دیوار دیکھنا
نعیم حامد علی
No comments:
Post a Comment