اکثر سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں
کتنا فرق ہے مجھ میں اور اے آئی میں
ممکن ہے جو دِکھتا ہے وہ دھوکا ہو
سب منظر ہوں پہلے سے بینائی میں
ممکن ہے ہم عرش سے اُلٹا لٹکے ہوں
چاند کسی نے پھینک دیا ہو کھائی میں
سر اب اُس کی یاد میں ایسے گُھومتا ہے
جیسے کنگن اُس کی گول کلائی میں
دنیا کر لے ایٹم پر تحقیق سمیر
ہم مصروف ہیں جذبوں کی سچائی میں
نعیم سمیر
No comments:
Post a Comment