Saturday, 14 March 2026

اکثر سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں

 اکثر سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں

کتنا فرق ہے مجھ میں اور اے آئی میں

ممکن ہے جو دِکھتا ہے وہ دھوکا ہو

سب منظر ہوں پہلے سے بینائی میں

ممکن ہے ہم عرش سے اُلٹا لٹکے ہوں

چاند کسی نے پھینک دیا ہو کھائی میں

سر اب اُس کی یاد میں ایسے گُھومتا ہے

جیسے کنگن اُس کی گول کلائی میں

دنیا کر لے ایٹم پر تحقیق سمیر

ہم مصروف ہیں جذبوں کی سچائی میں


نعیم سمیر

No comments:

Post a Comment