Monday, 30 March 2026

مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے

 مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے

ترے بندے دکھاوے کی وفاداری نہیں کرتے

ہمالہ کی بلندی بھی قدم بوسی کو گر اترے

زمیں والے زمیں کے ساتھ غداری نہیں کرتے

ہماری تشنہ کامی خود ہوا دیتی ہے شدت کو

عجب بادل ہیں پیاسوں کی طرف داری نہیں کرتے

بنا رکھا ہے کانٹوں پر گھروندا گل نے خوشبو کا

بلا مقصد تو بھنورے ناز برداری نہیں کرتے

جھلستی دھوپ کو ہم اوڑھ لیتے ہیں کبھی سر پر

کبھی ہم جسم کے سائے سے بھی یاری نہیں کرتے

منافق ہو اگر موسم بدل جاتے ہیں چہرے تک

خوشامد کرنے والے بھی طرف داری نہیں کرتے

کشاکش میں زمانے کی بسر اوقات مشکل تھی

تو کیا کرتے اگر نجمی اداکاری نہیں کرتے


م ش نجمی

محمد شفیق نجمی

No comments:

Post a Comment