Friday, 27 March 2026

تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے

 تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے

کیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتے

سجائے پھرتے ہو محفل نہ جانے کس کس کی

کبھی پرندوں کو مہمان کیوں نہیں کرتے

وہ دیکھتے ہی نہیں جو ہے منظروں سے الگ

کبھی نگاہ کو حیران کیوں نہیں کرتے

پرانی سمتوں میں چلنے کی سب کو عادت ہے

نئی دشاؤں کا وہ دھیان کیوں نہیں کرتے

بس اک چراغ کے بجھنے سے بجھ گئے دانش

تم آندھیوں کو پریشان کیوں نہیں کرتے


مدن موہن دانش

No comments:

Post a Comment