کیسا شہرِ معنی ہے کہ سب کچھ جل رہا ہے
مگر آئینۂ ادراک اب بھی کھل رہا ہے
فقیہِ وقت کے فتویٰ سے سچ دب سا گیا تھا
مگر ہر لفظ کے باطن میں سُورج پل رہا ہے
سلاسل اوڑھ کر بیٹھے ہیں اہلِ زر و مسند
ضمیرِ عصر پھر آہن کے سانچے میں ڈھل رہا ہے
ہوا کے ہاتھ میں خنجر ہے، شاخیں ہیں مضطرب
گُلِ صد برگ لیکن خُون میں بھی دھل رہا ہے
فصیلِ شب پہ سچ کا آخری چراغ ہے روشن
ہزار آندھیوں میں بھی برابر جل رہا ہے
میں اپنے عہد کی تاریک راہوں کا مسافر
مِرے قدموں تلے اک نقشِ اول جل رہا ہے
نہ سمجھے اہلِ دنیا اس کو دیوانۂ جنوں
جو سینے میں نہاں ہے دردِ کامل پل رہا ہے
لبوں پر صبر کی مُہر اور آنکھوں میں بغاوت
مِرے اندر کوئی منصور پھر مچل رہا ہے
جہانِ زر کی ٹھوکر سے صداقت چور ہوتی
مگر کردار کا پیکر ابھی سنبھل رہا ہے
جمیل اپنے لہو سے عہد کی تقدیر لکھتا
کہ اس کے ہاتھ میں معیارِ اول پل رہا ہے
جمیل اجمیری
No comments:
Post a Comment