اب اپنی پہچان بنا کر چھوڑوں گا
میں خود کو انسان بنا کر چھوڑوں گا
اب کہ زور نہیں چلنے دینا اِس کا
عشق کو میں دربان بنا کر چھوڑوں گا
زہر کشید کروں گا تھوڑی سی تم سے
اور پھر اک حیوان بنا کر چھوڑوں گا
اب اپنی پہچان بنا کر چھوڑوں گا
میں خود کو انسان بنا کر چھوڑوں گا
اب کہ زور نہیں چلنے دینا اِس کا
عشق کو میں دربان بنا کر چھوڑوں گا
زہر کشید کروں گا تھوڑی سی تم سے
اور پھر اک حیوان بنا کر چھوڑوں گا
کہیں آزاد ہوتی ہے کہیں زنجیر ہوتی ہے
میاں اس عشق کی کچھ ایسی ہی تاثیر ہوتی ہے
اگر موقع ملا تو خود خدا سے پوچھ لوں گا میں
کہ کیوں میرے ہی جیسوں کی بُری تقدیر ہوتی ہے
مِری جیبیوں میں گر اک پیسہ بھی ہوتا نہیں،لیکن
مِرے بٹوے میں برسوں سے تِری تصویر ہوتی ہے
وہ زندگی کا
بُرا سمے تھا
میں تم سے جب تک مِلا نہیں تھا
سمے جو گُزرا
سماں جو بدلا
تو تم کو میری وِیران دُنیا میں
اُسے انتظار تھا شام کا، وہ چلا گیا
مِرا جو بھی جیسا مقام تھا، وہ چلا گیا
وہ جو کوڑیوں کے بھی دام میں نہیں بِک سکا
وہ تھا آدمی بڑے کام کا، وہ چلا گیا
جسے بے کسوں کا مسِیحا بننے کا شوق
کیوں اُٹھا کے نُکتہ عوام کا، وہ چلا گیا
تجھے خبر کہاں؟
کہ جو اک شخص
تیری تلاش میں صدیوں سے
پرائی راہوں کی
دُھول چھانٹ رہا تھا
مر گیا کل شب