Showing posts with label سلمان بشیر. Show all posts
Showing posts with label سلمان بشیر. Show all posts

Wednesday, 27 March 2024

اب اپنی پہچان بنا کر چھوڑوں گا

 اب اپنی پہچان بنا کر چھوڑوں گا

میں خود کو انسان بنا کر چھوڑوں گا

اب کہ زور نہیں چلنے دینا اِس کا

عشق کو میں دربان بنا کر چھوڑوں گا

زہر کشید کروں گا تھوڑی سی تم سے

اور پھر اک حیوان بنا کر چھوڑوں گا

Sunday, 10 March 2024

کہیں آزاد ہوتی ہے کہیں زنجیر ہوتی ہے

 کہیں آزاد ہوتی ہے کہیں زنجیر ہوتی ہے

میاں اس عشق کی کچھ ایسی ہی تاثیر ہوتی ہے

اگر موقع ملا تو خود خدا سے پوچھ لوں گا میں

کہ کیوں میرے ہی جیسوں کی بُری تقدیر ہوتی ہے

مِری جیبیوں میں گر اک پیسہ بھی ہوتا نہیں،لیکن

مِرے بٹوے میں برسوں سے تِری تصویر ہوتی ہے

Tuesday, 14 February 2023

وہ زندگی کا برا سمے تھا

وہ زندگی کا

بُرا سمے تھا

میں تم سے جب تک مِلا نہیں تھا

سمے جو گُزرا

سماں جو بدلا

تو تم کو میری وِیران دُنیا میں 

Wednesday, 9 March 2022

اسے انتظار تھا شام کا وہ چلا گیا

اُسے انتظار تھا شام کا، وہ چلا گیا

مِرا جو بھی جیسا مقام تھا، وہ چلا گیا

وہ جو کوڑیوں کے بھی دام میں نہیں بِک سکا

وہ تھا آدمی بڑے کام کا، وہ چلا گیا

جسے بے کسوں کا مسِیحا بننے کا شوق

کیوں اُٹھا کے نُکتہ عوام کا، وہ چلا گیا

Sunday, 22 August 2021

تجھے خبر کہاں کہ دلوں میں جب بال پڑ جائے

تجھے خبر کہاں؟

کہ جو اک شخص

تیری تلاش میں صدیوں سے

پرائی راہوں کی

دُھول چھانٹ رہا تھا

مر گیا کل شب