اُسے انتظار تھا شام کا، وہ چلا گیا
مِرا جو بھی جیسا مقام تھا، وہ چلا گیا
وہ جو کوڑیوں کے بھی دام میں نہیں بِک سکا
وہ تھا آدمی بڑے کام کا، وہ چلا گیا
جسے بے کسوں کا مسِیحا بننے کا شوق
کیوں اُٹھا کے نُکتہ عوام کا، وہ چلا گیا
وہ سخن نواز کئی دِنوں سے ہے گُم شُدہ
اُسے تھا جنوں بڑے نام کا، وہ چلا گیا
میں یہ جانتا ہوں مگر مجھے نہیں ماننا
جو تھا رشتہ اُس سے سلام کا، وہ چلا گیا
کہیں اک نظر اُسے دیکھ لوں تو میں روک لوں
وہ امیر سا جو غلام تھا، وہ چلا گیا
سلمان بشیر
No comments:
Post a Comment