آنکھ والا تِری مورت سے الجھ جائے گا
یعنی دیوانہ شریعت سے الجھ جائے گا
واعظا ہوش کے ناخن لے وہ لب دور کی بات
تُو تو اس آنکھ کی حجت سے الجھ جائے گا
ہائے یہ زلفِ پریشان کہ ان زلفوں میں
اک برہمن تو سہولت سے الجھ جائے گا
دل تو عیاش اور وہ بھی بلا کا عیاش
کیا خبر تھی کہ محبت سے الجھ جائے گا
میں تِری زلف کے سائے میں اگا لوں سورج
پر زمانہ مِری بدعت سے الجھ جائے گا
شاداب جاوید
No comments:
Post a Comment