Wednesday, 9 March 2022

پچھلا دور بھی ویسے کتنا اچھا تھا

پچھلا دور بھی ویسے کتنا اچھا تھا

پیار وغیرہ فلموں میں ہی ہوتا تھا

کھانے کی ضِد کرتی ماں کو کیا معلوم

اس کا بیٹا کیا کچھ کھو کر آیا تھا

زہر کی شیشی کھولنے والے بُھول گئے

تُو نے بھی اک شخص کو زندہ چھوڑا تھا

یا رب تیرا حکم مِری سر آنکھوں پر

لیکن اس کا میرا ہونا بنتا تھا

اب اتنا محسوس نہیں ہوتا مجھ کو

پہلے پہل میں جذباتی ہو جاتا تھا

نئے مچھیروں کے آنے سے کچھ پہلے

دریا میری ساری باتیں سُنتا تھا


محسن ظفر ستی

No comments:

Post a Comment