رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا
ایک چہرہ کہ آنکھوں میں ٹھہرا سا تھا
بے چراغی سے تیری مِرے شہر دل
وادیٔ شعر میں کچھ اجالا سا تھا
میرے چہرے کا سورج اسے یاد ہے
بھولتا ہے پلک پر ستارہ سا تھا
رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا
ایک چہرہ کہ آنکھوں میں ٹھہرا سا تھا
بے چراغی سے تیری مِرے شہر دل
وادیٔ شعر میں کچھ اجالا سا تھا
میرے چہرے کا سورج اسے یاد ہے
بھولتا ہے پلک پر ستارہ سا تھا
بلاوا
چلو اس کوہ پر اب ہم بھی چڑھ جائیں
جہاں پر جا کے پھر کوئی بھی واپس نہیں آتا
سنا ہے اک ندائے اجنبی باہوں کو پھیلائے
جو آئے اس کا استقبال کرتی ہے
اسے تاریکیوں میں لے کے آخر ڈوب جاتی ہے
مجھے فرصت ہی فرصت ہے
سویرے جلد اٹھنا ہے
نہ شب کو دیر سے سونا
کہیں باہر نہیں جانا
کسی سے بھی نہیں ملنا
نہ کوئی فکر لاحق ہے
زہرا نے بہت دن سے، کچھ بھی نہیں لکھا ہے
حالانکہ دیریں اثنا، کیا کچھ نہیں دیکھا ہے
پر لکھے تو کیا لکھے اور سوچے تو کیا سوچے
کچھ فکر بھی مبہم ہے، کچھ ہاتھ لرزتا ہے
زہرا نے بہت دن سے، کچھ بھی نہیں لکھا ہے
دیوانی نہیں اتنی، جو منہ میں ہو بک جائے
ہر آن ستم ڈھائے ہے، کیا جانیے کیا ہو
دل غم سے بھی گھبرائے ہے، کیا جانیے کیا ہو
کیا غیر کو ڈھونڈیں، کہ تِرے کوچے میں ہرایک
اپنا سا نظر آئے ہے، کیا جانیے کیا ہو
آنکھوں کو نہیں راس کسی یاد کا آنسو
تھم تھم کے ڈھلک جائے ہے، کیا جانیے کیا ہو
جنونِ اولیں شائستگی تھی
وہی پہلی محبت آخری تھی
کشادہ تھے بہت بازوِ وحشت
یہ زنجیرِ خِرد الجھی ہوئی تھی
جہاں ہم پھر سے بسنا چاہ رہے تھے
وہ بستی ہُو کی دنیا ہو چکی تھی
”چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے“
ہر گل پر ہے بوند لہو کی، کیسا باد و باراں ہے
ننگی شاخوں پر خاموش ہیں سارے خوش الحان پرند
چاروں کھونٹ ہے وحشت لیکن سست خرام غزالاں ہے
کیسی صبحیں، کیسی شامیں، اور کدھر کی راتیں؟
خوش وقتی اب شہر بدر ہے ہر پَل بے سروساماں ہے
شہر کے ایک کشادہ گھر میں
شہر کے ایک کشادہ گھر میں
اپنے اپنے کام سنبھالے
میں اور ایک مری تنہائی
ہم دونوں مل کر رہتے ہیں
باتیں کرتے روتے ہنستے
ہر دکھ سکھ سہتے رہتے ہیں
سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا
کہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا
زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی
اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا
چلے چلتے تھے رہرو ایک آواز اخی پر
جنوں تھا یا فسوں تھا کچھ تو تھا جو ہو رہا تھا
متاعِ الفاظ
یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو، میری بات سنو
ہم اسی چھوٹی سی دنیا کے کسی رستے پر
اتفاقاً کبھی بُھولے سے کہیں مِل جائیں
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح
کچھ تکلف سے سہی ٹھہر کے کچھ بات کریں
اور اس عرصۂ اخلاق و مروت میں کبھی
شہرِ آشوب
صبحدم جو دیکھا تھا
کیا ہرا بھرا گھر تھا
ڈانٹتی ہوئی بیوی
بھاگتے ہوئے بچے
رسیوں کی بانہوں میں
جھولتے ہوئے کپڑے
ڈاکو
کل رات مِرا بیٹا میرے گھر
چہرے پہ منڈھے خاکی کپڑا
بندوق اٹھائے آ پہنچا
نو عمری کی سرخی سے رچی
اس کی آنکھیں، میں جان گئی
اور بچپن کے صندل سے منڈھا
اب تو کچھ ایسا لگتا ہے
سارا جگ مجھ سے چھوٹا ہے
آنکھیں بھی مری بوجھل بوجھل
شانوں پر بھی کچھ رکھا ہے
کاتبِ وقت نے جاتے جاتے
چہرے پر کچھ لکھ سا دیا ہے