Showing posts with label زہرا نگاہ. Show all posts
Showing posts with label زہرا نگاہ. Show all posts

Tuesday, 19 September 2023

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا

 رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا

ایک چہرہ کہ آنکھوں میں ٹھہرا سا تھا

بے چراغی سے تیری مِرے شہر دل

وادیٔ شعر میں کچھ اجالا سا تھا

میرے چہرے کا سورج اسے یاد ہے

بھولتا ہے پلک پر ستارہ سا تھا

Sunday, 21 August 2022

بلاوا جہاں پر جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا

 بلاوا


چلو اس کوہ پر اب ہم بھی چڑھ جائیں

جہاں پر جا کے پھر کوئی بھی واپس نہیں آتا

سنا ہے اک ندائے اجنبی باہوں کو پھیلائے

جو آئے اس کا استقبال کرتی ہے

اسے تاریکیوں میں لے کے آخر ڈوب جاتی ہے

Thursday, 10 February 2022

مجھے فرصت ہی فرصت ہے

 مجھے فرصت ہی فرصت ہے

سویرے جلد اٹھنا ہے 

نہ شب کو دیر سے سونا

کہیں باہر نہیں جانا

کسی سے بھی نہیں ملنا

نہ کوئی فکر لاحق ہے

Friday, 28 January 2022

زہرا نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے

 زہرا نے بہت دن سے، کچھ بھی نہیں لکھا ہے

حالانکہ دیریں اثنا، کیا کچھ نہیں دیکھا ہے

پر لکھے تو کیا لکھے اور سوچے تو کیا سوچے

کچھ فکر بھی مبہم ہے، کچھ ہاتھ لرزتا ہے

زہرا نے بہت دن سے، کچھ بھی نہیں لکھا ہے

دیوانی نہیں اتنی، جو منہ میں ہو بک جائے

Tuesday, 17 August 2021

ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو

 ہر آن ستم ڈھائے ہے، کیا جانیے کیا ہو

دل غم سے بھی گھبرائے ہے، کیا جانیے کیا ہو

کیا غیر کو ڈھونڈیں، کہ تِرے کوچے میں ہرایک

اپنا سا نظر آئے ہے، کیا جانیے کیا ہو

آنکھوں کو نہیں راس کسی یاد کا آنسو

تھم تھم کے ڈھلک جائے ہے، کیا جانیے کیا ہو

Tuesday, 23 March 2021

جنون اولیں شائستگی تھی

 جنونِ اولیں شائستگی تھی

وہی پہلی محبت آخری تھی

کشادہ تھے بہت بازوِ وحشت

یہ زنجیرِ خِرد الجھی ہوئی تھی

جہاں ہم پھر سے بسنا چاہ رہے تھے

وہ بستی ہُو کی دنیا ہو چکی تھی

Monday, 21 December 2020

ہر گل پر ہے بوند لہو کی، کیسا باد و باراں ہے

”چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے“

ہر گل پر ہے بوند لہو کی، کیسا باد و باراں ہے

ننگی شاخوں پر خاموش ہیں سارے خوش الحان پرند

چاروں کھونٹ ہے وحشت لیکن سست خرام غزالاں ہے

کیسی صبحیں، کیسی شامیں، اور کدھر کی راتیں؟

خوش وقتی اب شہر بدر ہے ہر پَل بے سروساماں ہے

Saturday, 19 December 2020

شہر کے ایک کشادہ گھر میں اپنے اپنے کام سنبھالے

 شہر کے ایک کشادہ گھر میں


شہر کے ایک کشادہ گھر میں

اپنے اپنے کام سنبھالے

میں اور ایک مری تنہائی

ہم دونوں مل کر رہتے ہیں

باتیں کرتے روتے ہنستے

ہر دکھ سکھ سہتے رہتے ہیں

Thursday, 10 December 2020

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

کہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا

زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی

اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا

چلے چلتے تھے رہرو ایک آواز اخی پر

جنوں تھا یا فسوں تھا کچھ تو تھا جو ہو رہا تھا

Tuesday, 27 October 2020

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو میری بات سنو

 متاعِ الفاظ

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو، میری بات سنو

ہم اسی چھوٹی سی دنیا کے کسی رستے پر

اتفاقاً کبھی بُھولے سے کہیں مِل جائیں

کیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح

کچھ تکلف سے سہی ٹھہر کے کچھ بات کریں

اور اس عرصۂ اخلاق و مروت میں کبھی

Friday, 16 October 2020

شہرِ آشوب

 شہرِ آشوب


صبحدم جو دیکھا تھا

کیا ہرا بھرا گھر تھا

ڈانٹتی ہوئی بیوی

بھاگتے ہوئے بچے

رسیوں کی بانہوں میں

جھولتے ہوئے کپڑے

Monday, 12 October 2020

کل رات مرا بیٹا میرے گھر

 ڈاکو


کل رات مِرا بیٹا میرے گھر

چہرے پہ منڈھے خاکی کپڑا

بندوق اٹھائے آ پہنچا

نو عمری کی سرخی سے رچی

اس کی آنکھیں، میں جان گئی

اور بچپن کے صندل سے منڈھا

Wednesday, 7 October 2020

اب تو کچھ ایسا لگتا ہے

اب تو کچھ ایسا لگتا ہے

سارا جگ مجھ سے چھوٹا ہے 

آنکھیں بھی مری بوجھل بوجھل 

شانوں پر بھی کچھ رکھا ہے 

کاتبِ وقت نے جاتے جاتے 

چہرے پر کچھ لکھ سا دیا ہے 

Saturday, 8 August 2020

کتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
کتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا
سارہ آرائش کا ساماں میز پر سوتا رہا
اور چہرہ جگمگاتا جاگتا ہنستا لگا
ملگجے کپڑوں پہ اس دن کس غضب کی آب تھی
سارے دن کا کام اس دن کس قدر ہلکا لگا

اک نظر دیکھیے تو عالی جناب

اک نظر دیکھیے تو عالی جناب
چشم پرنم ہے دیدۂ خوں ناب
اکثر اس ایک قطرۂ خوں میں
تختِ شاہاں بھی ہو گئے غرقاب
دیکھتے دیکھتے ہوئے ہیں دریا خشک
سربراہوں کی نیتیں ہیں خراب

Thursday, 30 July 2020

میں بچ گئی ماں

میں بچ گئی ماں

(اس بچی کے نام جسے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا)

میں بچ گئی ماں
تِرے کچے لہو کی مہندی
مِرے پور پور میں رچ گئی ماں
میں بچ گئی ماں

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں
آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں
ہم نے جس رستے پر اس کو چھوڑا ہے
پھول ابھی تک اس پر کھلتے جاتے ہیں
دن میں کرنیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں
رات گئے کچھ جگنو ملنے جاتے ہیں

بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے

بیٹھے بیٹھے کیسا دل "گھبرا" جاتا ہے
جانے والوں کا "جانا" یاد آ جاتا ہے
بات چیت میں جس کی روانی مِثل ہوئی
ایک نام لیتے میں کچھ رٗک سا جاتا ہے
ہنستی بستی راہوں کا خوش باش مسافر
روزی کی بھٹی کا ایندھن بن جاتا ہے

کہاں گئے مرے دلدار و غم گسار سے لوگ

کہاں گئے مِرے دلدار و غمگسار سے لوگ
وہ دلبرانِ زمیں، وہ فلک شعار سے لوگ
وہ موسموں کی صفت سب کو باعثِ تسکیں
وہ مہر و مہ کی طرح سب پہ آشکار سے لوگ
ہر آفتاب سے کرنیں سمیٹ لیتے ہیں
ہمارے شہر پہ چھائے ہوئے غبار سے لوگ

Wednesday, 5 April 2017

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا

یہ سچ ہے، یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا
گھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا
جبرِ دلِ بے مہر کا چرچا نہیں ہوتا
تاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا
ہر جذبۂ معصوم کی لگ جاتی ہے بولی
کہنے کو خریدار پرایا نہیں ہوتا