اک نظر دیکھیے تو عالی جناب
چشم پرنم ہے دیدۂ خوں ناب
اکثر اس ایک قطرۂ خوں میں
تختِ شاہاں بھی ہو گئے غرقاب
دیکھتے دیکھتے ہوئے ہیں دریا خشک
تشنگی حد سے ہو گئی ہے سوا
اور حدِ نظر، سراب، سراب
اے مِرے شہرِ دلبراں تجھ میں
عشق اور حسن دونوں میں نایاب
ماہ رُو منہ چھپائے پھرتے ہیں
عاشقی کے بدل گئے آداب
واعظوں کی بھی فکر ہے محدود
سب سے آگے ہے منفعت کا نصاب
دل سے نزدیک دنیوی آرام
آنکھ سے دور آخرت کا ثواب
ہر مصور کا رنگ ہے بے رنگ
ٹوٹ جاتے ہیں نقش مثلِ حباب
سُر سے زخمی ہوئے ہیں موسیقار
شور کرتے ہیں صرف چنگ و رباب
شاعری فکر کو ترستی ہے
کذب آمیز ہے ہر ایک خطاب
اپنی قسمت کو روتی رہتی ہے
بھری الماریوں میں خالی کتاب
تھوڑے آٹے میں ہو گیا پورا
ساری تنخواہ کا حساب کتاب
ہانڈیاں دل کی طرح خالی ہیں
روٹیاں ذہن کی طرح نایاب
ہر خریدار کے حواس ہیں گم
اور بقال کا دماغ خراب
جانور منہ اٹھا کے روتے ہیں
آنے والا ہے پھر سے کوئی عذاب
بچے غائب ہیں سمتِ کوہِ ندا
ڈھونڈتے ہیں گلی گلی ماں باپ
کونپلیں سر نہیں اٹھا پاتیں
گود مٹی کی ہو گئی بے آب
اب کہاں جائیں ڈوبنے کے لیے
جتنے دریا ملے، سبھی پایاب
وقت کیوں ہم سے سود مانگتا ہے
ہم تو نبٹا چکے ہیں سارے حساب
زہرا نگاہ
No comments:
Post a Comment