Saturday, 8 August 2020

قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں

قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں
خواہشوں کے زاویے کچھ اور ہیں
سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب
لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں
رہبری اب شرطِ منزل کب رہی
آؤ ڈھونڈیں راستے کچھ اور ہیں
یہ تو اک بستی تھکے لوگوں کی ہے
راہ میں جو لٹ گئے کچھ اور ہیں
مل رہے ہیں گرچہ پہلے کی طرح
وہ مگر اب چاہتے کچھ "اور" ہیں

فاطمہ حسن

No comments:

Post a Comment