Showing posts with label سرشار فقیرزادہ. Show all posts
Showing posts with label سرشار فقیرزادہ. Show all posts

Monday, 31 July 2023

ترا مسکانا بس اک شرط ہے

 شرط

 

ہمارے گھر سے کچھ ہی دور قلعے کی پہاڑی ہے

جسے پریوں کا مسکن لوگ کہتے ہیں

اور اس قلعے کے رستے آستانہ ہے

کوئی سید ہے جس کی قید میں اک خوبصورت سی پری ہے

لگا رہتا ہے تانتا اس کے گھر 

رنجیدہ ماؤں مسترد شد بیویوں، بدخواہ پھپھیوں کا

Tuesday, 11 April 2023

میں بیٹھا رہا ٹرین چلتی رہی

 میری منزل بہت دور تھی 

میں نے  منزل پہنچنے تلک بیٹھنا تھا 

میں بیٹھا رہا

ٹرین چلتی رہی

میری منزل وہ گُل رُخ پری تھی 

کہ جس تک پہنچنے کی دوری بڑی اور دشوار تھی 

Thursday, 3 February 2022

ہندوکش کے پہاڑوں کا بیٹا کئی سال تک

 اعترافِ شکست


ہندوکش کے پہاڑوں کا بیٹا کئی سال تک

سال ایسے کہ جن کا ہر اک لمحہ اک سال ہو

ایک پتھر کی سل پر محبت کا پودا اگانے کی خاطر

کہ اک خوبصورت سی ناری کے دل میں 

محبت جگانے کی خاطر

Friday, 2 July 2021

کتاب عشق کا استاد ہوں میں

 کتابِ عشق کا استاد ہوں میں

خِرد مندو! قلندر زاد ہوں میں

ہے مجھ پر بیمِ آزادی مسلط

کہ اک زن ہائے بے اولاد ہوں میں

کبھی زاہد کبھی مے بازِ بے سُدھ

عجب مجموعۂ اضداد ہوں میں

Sunday, 3 January 2021

یہ روئے زیبا یہ رشکِ صد ماہتاب چہرہ

 گلاب احمر


یہ روئے زیبا 

یہ رشکِ صد ماہتاب چہرہ

یہ کاغذی، لاجواب چہرہ

تمہارا نازک کتاب چہرہ

کتاب چہرے میں بے نہایت

Wednesday, 23 December 2020

ماہ رو ماہتاب شہزادی تیرے لب ہیں گلاب شہزادی

 ماہ رو، ماہ تاب شہزادی 

تیرے لب ہیں گلاب شہزادی 

میری ہر بات پر ادب سے جھکے 

اور کہے، جی جناب! شہزادی 

سنگ ہو جائیں لوگ حیرت سے 

ہو اگر بے حجاب شہزادی 

طیور گائیں غزل موسم بہار آئے

 طیور گائیں غزل موسمِ بہار آئے

دیارِ خانہ بدوشاں جو شہریار آئے

تمہارا ثانی و ہمسر کوئی نہیں یارم

ہمارے جیسے قلندر کئی ہزار آئے

تمہارے سوختہ جانوں کے تن بدن پر تھے

دماغ بار، سو آشفتگاں اتار آئے

Tuesday, 22 December 2020

اک شہر و حسن ناز معطر نفس اداس

 اک شہر و حسن ناز معطر نفس اداس

ساعت اگر ہوئے تو رہوں میں برس اداس

اے باعثِ نشاط! خبر ہے کہ تیرے بعد

ہر بام و در اداس ہے، ہر خاص و خس اداس

کس خوش سلیقگی سے چھپا کر غمِ عظیم

بولی وہ، میں اداس ہوں کچھ، یونہی بس اداس

سم قاتل حنا آلود ہاتھوں سے

 سم قاتل 

حنا آلود ہاتھوں سے

بلا فکر و تردد

میرے ساغر میں بھرا کیجے

کہ میں اک زندگی بیزار انسان

ساقن اعلیٰ

جب اس کے بالوں کا رنگ بدلا

 شب گزیدہ


جب اس کے بالوں کا رنگ بدلا

جب اس کی لانبی سیاہ زلفوں میں اتری چاندی

ادھیڑ عمری نے اس کے در پر جو دستکیں دی

تو اس کو میرا خیال آیا

جب اس کو میرا خیال آیا

محبتوں کی بہار آئی