شرط
ہمارے گھر سے کچھ ہی دور قلعے کی پہاڑی ہے
جسے پریوں کا مسکن لوگ کہتے ہیں
اور اس قلعے کے رستے آستانہ ہے
کوئی سید ہے جس کی قید میں اک خوبصورت سی پری ہے
لگا رہتا ہے تانتا اس کے گھر
رنجیدہ ماؤں مسترد شد بیویوں، بدخواہ پھپھیوں کا
شرط
ہمارے گھر سے کچھ ہی دور قلعے کی پہاڑی ہے
جسے پریوں کا مسکن لوگ کہتے ہیں
اور اس قلعے کے رستے آستانہ ہے
کوئی سید ہے جس کی قید میں اک خوبصورت سی پری ہے
لگا رہتا ہے تانتا اس کے گھر
رنجیدہ ماؤں مسترد شد بیویوں، بدخواہ پھپھیوں کا
میری منزل بہت دور تھی
میں نے منزل پہنچنے تلک بیٹھنا تھا
میں بیٹھا رہا
ٹرین چلتی رہی
میری منزل وہ گُل رُخ پری تھی
کہ جس تک پہنچنے کی دوری بڑی اور دشوار تھی
اعترافِ شکست
ہندوکش کے پہاڑوں کا بیٹا کئی سال تک
سال ایسے کہ جن کا ہر اک لمحہ اک سال ہو
ایک پتھر کی سل پر محبت کا پودا اگانے کی خاطر
کہ اک خوبصورت سی ناری کے دل میں
محبت جگانے کی خاطر
کتابِ عشق کا استاد ہوں میں
خِرد مندو! قلندر زاد ہوں میں
ہے مجھ پر بیمِ آزادی مسلط
کہ اک زن ہائے بے اولاد ہوں میں
کبھی زاہد کبھی مے بازِ بے سُدھ
عجب مجموعۂ اضداد ہوں میں
گلاب احمر
یہ روئے زیبا
یہ رشکِ صد ماہتاب چہرہ
یہ کاغذی، لاجواب چہرہ
تمہارا نازک کتاب چہرہ
کتاب چہرے میں بے نہایت
ماہ رو، ماہ تاب شہزادی
تیرے لب ہیں گلاب شہزادی
میری ہر بات پر ادب سے جھکے
اور کہے، جی جناب! شہزادی
سنگ ہو جائیں لوگ حیرت سے
ہو اگر بے حجاب شہزادی
طیور گائیں غزل موسمِ بہار آئے
دیارِ خانہ بدوشاں جو شہریار آئے
تمہارا ثانی و ہمسر کوئی نہیں یارم
ہمارے جیسے قلندر کئی ہزار آئے
تمہارے سوختہ جانوں کے تن بدن پر تھے
دماغ بار، سو آشفتگاں اتار آئے
اک شہر و حسن ناز معطر نفس اداس
ساعت اگر ہوئے تو رہوں میں برس اداس
اے باعثِ نشاط! خبر ہے کہ تیرے بعد
ہر بام و در اداس ہے، ہر خاص و خس اداس
کس خوش سلیقگی سے چھپا کر غمِ عظیم
بولی وہ، میں اداس ہوں کچھ، یونہی بس اداس
سم قاتل
حنا آلود ہاتھوں سے
بلا فکر و تردد
میرے ساغر میں بھرا کیجے
کہ میں اک زندگی بیزار انسان
ساقن اعلیٰ
شب گزیدہ
جب اس کے بالوں کا رنگ بدلا
جب اس کی لانبی سیاہ زلفوں میں اتری چاندی
ادھیڑ عمری نے اس کے در پر جو دستکیں دی
تو اس کو میرا خیال آیا
جب اس کو میرا خیال آیا
محبتوں کی بہار آئی