Thursday, 3 February 2022

ہندوکش کے پہاڑوں کا بیٹا کئی سال تک

 اعترافِ شکست


ہندوکش کے پہاڑوں کا بیٹا کئی سال تک

سال ایسے کہ جن کا ہر اک لمحہ اک سال ہو

ایک پتھر کی سل پر محبت کا پودا اگانے کی خاطر

کہ اک خوبصورت سی ناری کے دل میں 

محبت جگانے کی خاطر

سحر سے اذانِ عشاء

اور عشاء سے سحر

اور پھر شام تک

ہل چلاتا رہا

ہندوکش کے پہاڑوں کا بیٹا مگر

ہائے افسوس

کوئی کرامت نہ دکھلا سکا

ہندوکش کے پہاڑوں کا بیٹا صدائیں لگاتا رہا

اور اک در مسلسل بجاتا رہا

ہاتھ زخمی ہوئے، اور گلا چھل گیا

پر نہ اس پر محبت کا در وا ہوا

ہندوکش کے پہاڑوں کے بیٹے کی ہمت ہوا ہو گئی

اور دلگیر لہجے میں کہنے لگا

میں نے جس در پہ دستک دی، دیوار تھی

جس پہ بس لفظ دروازہ مرقوم تھا


سرشار فقیرزادہ

No comments:

Post a Comment