Showing posts with label اظہر شمس. Show all posts
Showing posts with label اظہر شمس. Show all posts

Saturday, 6 November 2021

دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے

 دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے

وقت رکتا نہیں یوں نہ شرمائیے

زینۂ عشق بھی، زینتِ بیت بھی

دل میں رکھیے قدم دل میں بس جائیے

چار سُو ہے گھٹا ہے قیامت بپا

زُلف بہر کرم یوں نہ بکھرائیے

Friday, 22 October 2021

قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے

 قاتل ہے جو میرا، وہی اپنا سا لگے ہے

دنیا سے جدا ہو کے وہ دنیا سا لگے ہے

ہر شام مِرے دل میں ہے یادوں سے چراغاں

ہر شام مِری پلکوں پہ میلا سا لگے ہے

کس حال پہ چھوڑے ہے مجھے گردشِ ایام

سبزہ بھی جہاں دیکھے ہوں صحرا سا لگے ہے

Wednesday, 20 October 2021

شاخ گلشن پہ تھا جو ٹھکانہ گیا

 شاخ گلشن پہ تھا جو ٹھکانہ گیا

اس پرندے کا تو آب و دانہ گیا

آندھیوں کی ہے زد پر گھروندے یہاں

یعنی ہمدردیوں کا زمانہ گیا

زرد موسم کی آمد نے بدلا سماں

سبزۂ گلستاں کا زمانہ گیا

Tuesday, 19 October 2021

میں دور ہو کے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا

 میں دور ہو کے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا

ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہیں ہوتا

بغیر اس کے ہو احساس زندگی کا سفر

یہ سوچتا تو ہوں پر حوصلہ نہیں ہوتا

وہ اس طرح سے مِری زندگی کا حصہ ہے

اس ایک حس کا بدل دوسرا نہیں ہوتا

Sunday, 18 July 2021

ترقی کا وہ دعویٰ کر رہا ہے

 ترقی کا وہ دعویٰ کر رہا ہے

مگر ہر شخص فاقہ کر رہا ہے

وہ دیکھے ہے مکانات بلندی

وہ اُجڑے گھر سے پردہ کر رہا ہے

مفاد اولیت چاہنے میں

وہ انسانوں کا سودا کر رہا ہے

Tuesday, 18 May 2021

کل آج سے بہتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں

 کل آج سے بہتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں

منصور و مظفر ہو، آؤ یہ دعا مانگیں

دنیا کی فصیلوں پر ہوں امن کی رعنائی

نے خون نہ خنجر ہو، آؤ یہ دعا مانگیں

ہیں چاہ میں اقرا کی اس علم دو عالم میں

ہر قطرہ سمندر ہو، آؤ یہ دعا مانگیں