دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے
وقت رکتا نہیں یوں نہ شرمائیے
زینۂ عشق بھی، زینتِ بیت بھی
دل میں رکھیے قدم دل میں بس جائیے
چار سُو ہے گھٹا ہے قیامت بپا
زُلف بہر کرم یوں نہ بکھرائیے
دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے
وقت رکتا نہیں یوں نہ شرمائیے
زینۂ عشق بھی، زینتِ بیت بھی
دل میں رکھیے قدم دل میں بس جائیے
چار سُو ہے گھٹا ہے قیامت بپا
زُلف بہر کرم یوں نہ بکھرائیے
قاتل ہے جو میرا، وہی اپنا سا لگے ہے
دنیا سے جدا ہو کے وہ دنیا سا لگے ہے
ہر شام مِرے دل میں ہے یادوں سے چراغاں
ہر شام مِری پلکوں پہ میلا سا لگے ہے
کس حال پہ چھوڑے ہے مجھے گردشِ ایام
سبزہ بھی جہاں دیکھے ہوں صحرا سا لگے ہے
شاخ گلشن پہ تھا جو ٹھکانہ گیا
اس پرندے کا تو آب و دانہ گیا
آندھیوں کی ہے زد پر گھروندے یہاں
یعنی ہمدردیوں کا زمانہ گیا
زرد موسم کی آمد نے بدلا سماں
سبزۂ گلستاں کا زمانہ گیا
میں دور ہو کے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا
ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہیں ہوتا
بغیر اس کے ہو احساس زندگی کا سفر
یہ سوچتا تو ہوں پر حوصلہ نہیں ہوتا
وہ اس طرح سے مِری زندگی کا حصہ ہے
اس ایک حس کا بدل دوسرا نہیں ہوتا
ترقی کا وہ دعویٰ کر رہا ہے
مگر ہر شخص فاقہ کر رہا ہے
وہ دیکھے ہے مکانات بلندی
وہ اُجڑے گھر سے پردہ کر رہا ہے
مفاد اولیت چاہنے میں
وہ انسانوں کا سودا کر رہا ہے
کل آج سے بہتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں
منصور و مظفر ہو، آؤ یہ دعا مانگیں
دنیا کی فصیلوں پر ہوں امن کی رعنائی
نے خون نہ خنجر ہو، آؤ یہ دعا مانگیں
ہیں چاہ میں اقرا کی اس علم دو عالم میں
ہر قطرہ سمندر ہو، آؤ یہ دعا مانگیں