ترقی کا وہ دعویٰ کر رہا ہے
مگر ہر شخص فاقہ کر رہا ہے
وہ دیکھے ہے مکانات بلندی
وہ اُجڑے گھر سے پردہ کر رہا ہے
مفاد اولیت چاہنے میں
وہ انسانوں کا سودا کر رہا ہے
برابر میں کمی بیشی کو رکھ کر
ترقی کا ارادہ کر رہا ہے
دُہائی دے کے وہ جمہوریت کی
نظام خواب رُسوا کر رہا ہے
ہوئے حکام اب سارے لٹیرے
دل حالات نالہ کر رہا ہے
اظہر شمس
No comments:
Post a Comment