اداس رہنا بھی اک صفت ہے
اگر تم اس کو سمجھ سکو گے
تو پھر اداسی کنیز بن کر
تمہارے پہلو میں بیٹھ کر کے
تمہارے ہاتھوں کو تھام لے گی
تمہیں تسلی سے دیکھ کر کے
اداس رہنا بھی اک صفت ہے
اگر تم اس کو سمجھ سکو گے
تو پھر اداسی کنیز بن کر
تمہارے پہلو میں بیٹھ کر کے
تمہارے ہاتھوں کو تھام لے گی
تمہیں تسلی سے دیکھ کر کے
کبھی ان کا نام لکھا کبھی لکھ کے پھر مٹایا
غم ہجر میں بھی میں نے بڑا لطف ہے اٹھایا
تجھے ہے طلب گلوں کی تو عبث یہ سوچنا ہے
کہیں خار چبھ نہ جائے اگر ہاتھ کو بڑھایا
میری ہے یہی تمنا ترے ساتھ رات گزرے
تیرے واسطے ہی جاناں میں نے روم ہے سجایا
کہاں جاتے ہو یوں پہلو بدل کے
ابھی کچھ شعر باقی ہیں غزل کے
جہاں لکھا تھا میں نے لفظ الفت
وہیں پر آ گرے آنسو پھسل کے
یہ میرا جسم جو مہکا ہوا ہے
تِری محفل سے آیا ہوں نکل کے
تمہاری یاد میں اٹکا ہوا ہے
ہمارا دل ابھی بھٹکا ہوا ہے
کوئی دستک سنائی دے رہی ہے
در دل پر ابھی کھٹکا ہوا ہے
تمہارے نام کا تعویذ جاناں
گلے میں آج تک لٹکا ہوا ہے
محور
بڑے سلیقے سے رفتہ رفتہ
میں اس کے ہاتھوں کو تھام لوں گا
پھر اس کے ہاتھوں کا لمس پا کر
مجھے لگے گا کہ آج شاید
مری دعائیں جو نامکمل تھیں آج تک وہ
بس ایسے لمحے کی منتظر تھیں
تمہارے شہر سے گزروں تو میری جان ادا
مجھے فراز کا وہ شعر یاد آتا ہے
کہ جس میں اس نے کہا تھا کہ؛ کُوچ کر جائیں
مگر اس کُوچ کے معانی سمجھ نہ پائی تم
اور ایسے کُوچ کیا تم نے زندگی سے مِری
کہ مجھ میں تاب نہیں ہے تمہیں بھُلانے کی