Showing posts with label کاشف اختر. Show all posts
Showing posts with label کاشف اختر. Show all posts

Saturday, 7 February 2026

اداس رہنا بھی اک صفت ہے

 اداس رہنا بھی اک صفت ہے

اگر تم اس کو سمجھ سکو گے

تو پھر اداسی کنیز بن کر

تمہارے پہلو میں بیٹھ کر کے

تمہارے ہاتھوں کو تھام لے گی

تمہیں تسلی سے دیکھ کر کے

Tuesday, 8 July 2025

کبھی ان کا نام لکھا کبھی لکھ کے پھر مٹایا

 کبھی ان کا نام لکھا کبھی لکھ کے پھر مٹایا

غم ہجر میں بھی میں نے بڑا لطف ہے اٹھایا

تجھے ہے طلب گلوں کی تو عبث یہ سوچنا ہے

کہیں خار چبھ نہ جائے اگر ہاتھ کو بڑھایا

میری ہے یہی تمنا ترے ساتھ رات گزرے

تیرے واسطے ہی جاناں میں نے روم ہے سجایا

Sunday, 5 January 2025

کہاں جاتے ہو یوں پہلو بدل کے

 کہاں جاتے ہو یوں پہلو بدل کے

ابھی کچھ شعر باقی ہیں غزل کے

جہاں لکھا تھا میں نے لفظ الفت 

وہیں پر آ گرے آنسو پھسل کے

یہ میرا جسم جو مہکا ہوا ہے

تِری محفل سے آیا ہوں نکل کے

Tuesday, 31 December 2024

تمہاری یاد میں اٹکا ہوا ہے

 تمہاری یاد میں اٹکا ہوا ہے

ہمارا دل ابھی بھٹکا ہوا ہے

کوئی دستک سنائی دے رہی ہے

در دل پر ابھی کھٹکا ہوا ہے

تمہارے نام کا تعویذ جاناں

گلے میں آج تک لٹکا ہوا ہے

Monday, 23 December 2024

اور اس کہانی کو کوئی محور نہیں ملے گا

 محور


بڑے سلیقے سے رفتہ رفتہ

میں اس کے ہاتھوں کو تھام لوں گا

پھر اس کے ہاتھوں کا لمس پا کر

مجھے لگے گا کہ آج شاید

مری دعائیں جو نامکمل تھیں آج تک وہ

بس ایسے لمحے کی منتظر تھیں

Thursday, 19 December 2024

تمہارے شہر سے گزروں تو میری جان ادا

 تمہارے شہر سے گزروں تو میری جان ادا

مجھے فراز کا وہ شعر یاد آتا ہے

کہ جس میں اس نے کہا تھا کہ؛ کُوچ کر جائیں

مگر اس کُوچ کے معانی سمجھ نہ پائی تم

اور ایسے کُوچ کیا تم نے زندگی سے مِری

کہ مجھ میں تاب نہیں ہے تمہیں بھُلانے کی