ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
آثار بتاتے ہیں
دل مِرا کہتا ہے
سرکارﷺ بلاتے ہیں
مرتضیٰ اشعر
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
آثار بتاتے ہیں
دل مِرا کہتا ہے
سرکارﷺ بلاتے ہیں
مرتضیٰ اشعر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انؐ کی چوکھٹ پہ جو پڑا ہوتا
اپنی قامت سے بھی بڑا ہوتا
کاش ہوتا درخت برگد کا
آپؐ کے رستے میں کھڑا ہوتا
میں چٹائی کھجور کی یا پھر
انؐ کے گھر میں رکھا گھڑا ہوتا
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے*
نعتوں کا اُجالا ہے
عشقِ محمدﷺ تو
بخشش کا حوالہ ہے
مرتضیٰ اشعر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دھڑکنیں جب میم سے موسوم ہونے لگ گئیں
رمز ہائے کُن سبھی مرقوم ہونے لگ گئیں
دل نے دھک دھک کو درودوں سے عبارت کرلیا
خود بخود سانسیں مِری منظوم ہونے لگ گئیں
کیا وظیفہ تھا بزرگوں کی جماعت کا جنہیں
اَن کہی باتیں بھی سب معلوم ہونے لگ گئیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لِکھوں قلم سے تو طیبہ لکھائی دیتا ہے
سُنوں تو صرف مدینہ سنائی دیتا ہے
زمیں پہ ایک جگہ رشکِ آسماں ہے اور
جہاں سے نور کا قریہ دکھائی دیتا ہے
یہیں سے مجھ کو شفا ملتی ہے زمانے میں
یہ اسم میرے مرض کو دوائی دیتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آتا ہے جب بھی لفظِ محمدﷺ اذان میں
میلاد ہونے لگتا ہے دل کے مکان میں
صورت کی اُنؐ کے سیرت و کردار کی کہیں
ملتی نہیں مثال کسی بھی جہان میں
حضرت حلیمہ آپ کی گودی کے لعل سا
دھرتی پہ تھا نہ کوئی کہیں آسمان میں
گہری نیند
مانجھیوں کا تھا رزق جو پانی
اب انہیں کو ڈبو رہا ہے کیوں؟
جاگ اٹھا چناب پھر شاید
موت ہے لہر لہر پانی کی
پیاس سب کی بُجھانے والا یم
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
سن لیا چشمِ تر کی نمی کے سبب
ہو گیا سب عطا اس غنی کے سبب
آرزو ہے کسے مال و زر کی یہاں
سب میسر ہے عشقِ نبیؐ کے سبب
مل رہا ہے مجھے تو طلب سے سوا
کچھ بھی حاجت نہیں ہے سخی کے سبب
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
رات ڈھلتی رہی، بات ہوتی رہی
شعر کہتے رہے، نعت ہوتی رہی
سیرتِ مصطفیٰؐ پر جمی تھی نگہ
اور تخیل کی بہتات ہوتی رہی
تھے لبوں پر درودوں کے وہ زمزمے
نکہتِ گُل کی برسات ہوتی رہی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مدحت ہو تِری کیسے کہ دشوار بیاں ہے
محدود مِری سوچ تو محدود زباں ہے
جب سے ہے مِرا رابطہ اس شاہِ اُمم سے
پُر نور مِرا دل ہے، منور مِری جاں ہے
طیبہ میں رہوں، موت اسی شہر میں آئے
بس اک یہی ارمان مِرے دل میں نہاں ہے
بجھ گیا دیپ بھی جلتا جلتا
اس قدر خوف تھا لمحہ لمحہ
میں تِرے شہر سے یوں لوٹ آیا
درد بکھرے ملے چہرہ چہرہ
دور ہوتی گئی منزل مجھ سے
اور میں تھک گیا چلتا چلتا
چلو شاید کہ منزل کا نشاں ہے
نہیں تو یہ مسافت رائیگاں ہے
نہ ہی تم میں سکت طوفاں سے لڑ لو
نہ اپنے پاس کوئی بادباں ہے
فقط ہم نام دینے سے ہیں قاصر
تعلق تو ہمارے درمیاں ہے